BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 May, 2007, 13:01 GMT 18:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پرانی دلی میں موسیقی کے قدردان

موسیقی کے ریکارڈ
غیر ممالک سے تعلق رکھنے والےگاہک ہندوستانی موسیقی کے اصل قدردان ہیں
بھارتی دارالحکومت دلی کے فصیل بند شہر میں جامع مسجد کے مینا بازار کی تنگ گلیوں میں موسیقی کے کئی رنگ آپ کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔

مینا بازار کی گلیوں میں چھوٹی چھوٹی دکانوں کے درمیان شاہ میوزک شاپ دیکھنے میں ایک چھوٹی سی تاریک دکان ہے لیکن دکان کے اندر داخل ہونے پر پرانے میوزک ریکارڈز کا جو خزانہ سید اکبر شاہ نے جمع کیا ہے وہ نایاب ہے۔

شاہ میوزک شاپ کے مالکان کے مطابق سنہ انیس سو تیس سے لے کر آج تک جتنی بھی ہندی فلم کے گانے یا غزل ریلیز ہوئیں وہ سب شاہ میوزک شاپ میں دستیاب ہیں۔

ہندی فلموں کی پہلی بولتی فلم ’عالم آراء‘ سے لے کر یش چوپڑا کی فلم ’ویر زارا‘ کے ریکارڈ اس دکان میں موجود ہیں۔ شاہ میوزک شاپ میں نہ صرف ہندی بلکہ پرانی بنگلہ اورگجراتی فلموں، پاکستانی غزل، اور بیٹلز، ایلوس پریسلے اور پنک فلوائڈ کے گانوں کے اصل ریکارڈ باقاعدہ اچھی حالت میں موجود ہیں۔

دکان کے مالک سید اکبر شاہ دلی کے رہنے والے ہیں۔ ان کے والد احمد شاہ پیشے سے ایک مکینک تھے اور پرانے ریڈیو اور گراموفون کی مرمت کرنے کا کام کرتے تھے۔ وہ اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ فلمی گانوں اور دیگر موسیقاروں کے نغموں کے ریکارڈ شوقیہ جمع کرتے تھے اور یہی شوق بعد میں ایک دیوانگی کی شکل اختیار کرگیا اور ا نہيں جہاں کہیں بھی پرانے ریکارڈز اور گراموفون ملے انہوں نے خرید لیے۔

نایاب کلاسیکل موسیقی کو بچا کر رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے

آج ایک ایسے وقت میں جب نئی تکنیک کی آمد سے لوگ سی ڈی اور آئی پوڈ پر گانے سننا پسند کرتے ہیں احمد شاہ کے بیٹے اکبر شاہ نے اپنے بیٹوں کے ہمراہ اپنی والد کے شوق کو اپنا کیرئر بنا لیا ہے۔

اکبر شاہ کہتے ہیں’میں نے اپنے والد کے شوق کو اپنا کرئیر بنانے کا فیصلہ اس لیے کیا تا کہ وقت کے ساتھ گھر کی ذمہ داریوں اور معاشی مجبوریوں کی وجہ سے یہ شوق مر نہ جائے اور یوں آج سّتر برس بعد بھی ہمارے کلیکشن میں مزید اضافہ ہو رہا ہے‘۔

شاہ میوزک میں آج تک ریلیز ہوئی ہندی فلموں کے تقریباً سبھی ریکارڈز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کے ایل سہگل، بیگم اختر، ملکہ جان، ملکہ بائی کے ریکارڈز بھی دستیاب ہیں۔ اکبر شاہ کہتے ہیں’تکینک بدلنے کے بعد ہمارے سامنے کچھ چیلنجز ضرور تھے لیکن ایک ایسا دور آیا جب گراموفون ایک سٹیٹس سمبل بن گیا اور اسی وجہ سے گراموفون کا بزنس ایک نایاب بزنس بن گیا ہے‘ اور اب گراموفون اور میوزک ریکارڈز کی بڑھتی ہوئی مانگ کے سبب شاہ میوزک میں اب گرامو فون بنانے کا کام بھی کیا جاتا ہے‘۔

کشور کمار کے ریکارڈز بھی اس کلیکشن میں موجود ہیں

ایک ایسے وقت میں جب نایاب کلاسیکل موسیقی کو بچا کر رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے شاہ میوزک اپنے پرانے ریکارڈز کو بچا کر رکھنے کے لیے خاص طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ اکبر شاہ بتاتے ہیں کہ’ریکارڈز کو کاغذ میں لپیٹ کر اوپر سے پالیتھین لگا کر ائرکنڈیشنڈ ماحول میں رکھنے سے ریکارڈ خراب نہیں ہوتے ہیں‘۔

اس سوال پر کہ کیا حکومت کی طرف سے موسیقی کے خزانے کو بچا کر رکھنے میں کوئی مدد ملتی ہے، اکبر شاہ کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد اپنے والد کے شوق کو برقرار رکھنا ہے جو وہ بنا کسی مدد کے بخوبی کر رہے ہیں۔

شاہ میوزک کے باقاعدہ گاہکوں میں فلم ہدایت کار یش چوپڑہ، اداکارہ سائرہ بانو، دپتی نول اور دلیپ کمار شامل ہیں۔ مسٹر شاہ بتاتے ہیں’جیسے جیسے ہندوستانی کلاسیکل میوزک بیرونی ممالک میں مقبول ہو رہا ہے ویسے ویسے بیرونی ممالک کے باشندے پرانی کلاسیکل موسیقی کی تلاش میں ہماری دکان کا رخ کر رہے ہیں۔ غیر ممالک سے تعلق رکھنے والے ہمارے گاہک ہندوستانی موسیقی کے اصل قدردان ہیں‘۔

شاہ میوزک شاپ میں نہ صرف فلم ریکارڈز بلکہ پرانےگراموفون اور ریڈیو بھی موجود ہیں۔ اکبر شاہ اور ان کے والد کے شوق کو زندہ رکھنے میں اب ان کے بیٹے محمد ظفر شاہ بھی مدد کر رہے ہیں۔

گراموفون کا بزنس ایک نایاب بزنس بن گیا ہے

محمد ظفرشاہ بتاتے ہیں’آج کی نئی نسل میں بھی پرانےگانے سننے کا شوق ہے۔ ہم نے اب پرانے گانوں کو کیسٹ اور سی ڈی پر ریکارڈ کرنا شروع کر دیا ہے جس سے نایاب گانوں کی مقبولیت دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور اسی وجہ سے ہم نے اپنے کلیکشن کو مزید بڑھانا شروع کر دیا ہے‘۔

نایاب سے نایاب ریکارڈز کی تلاش میں شاہ میوزک شاپ نے ایک ویب سائٹ بھی قائم کی ہے جس کے ذریعے اور دیگر طریقوں کی مدد سے ملک بھر سے دستیاب موسیقی کے ریکارڈز خریدے جا رہے ہیں اور’میوزک کے خزانے کو دن بہ دن وسیع کیا جا رہا ہے تا کہ ماضی کے اس نایاب خزانے اور وراثت سے نئی نسل کو بھی روشناس کرایا جا سکے‘۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد