بیکار نوٹوں سے اچھا کاغذ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے شمالی شہر جے پور میں پھٹے اور بیکار نوٹووں کو کارآمد کرنے کی ایک نئی ترکیب سوچی گئی ہے۔ جے پور میں واقع کمار نیشیل ہینڈ میڈ پیپر انسٹی ٹیوٹ ایک ایسی نئی تکنیک کا استمعال کرنے جارہی جس کے تحت پرانے اور بیکار نوٹوں سے اچھے قسم کا ’ہینڈ میڈ‘ کاغذ بنایا جاۓ گا۔ خیال رہے کہ بھارتیہ ریزرو بینک (آر بی آئی) ہر برس ہزاروں ٹن بیکار نوٹوں کو جلا دیتا تھا۔ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر آر کے جین نے بی بی سی کو بتایا کہ ریزروبینک آف انڈيا نے ان کے انسٹی ٹیوٹ سے رابطہ قائم کیا تھا کہ ان پھٹے نوٹوں کا کیا جاۓ تو انسٹی ٹیوٹ نے ایک ایسی تکنیک نکالی جس سے پھٹے اور بیکار نوٹوں سے بہترین قسم کا کاغذ بنایا جا سکے۔ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق آر بی آئی کی جانب سے ہر برس دس ہزآر ٹن سے زیادہ بیکار نوٹ زبردست نگرانی میں جلائے جاتے ہیں جس سے آلودگی بھی پیدا ہوتی تھی۔ نوٹوں میں بعض ایسے مادے ہوتے ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ڈاکٹر جین کے مطابق ملک میں ساٹھ لاکھ ٹن کاغذ استعمال میں آتا ہے اور تقریباً بیس لاکھ ٹن کاغذ ہاتھ سے بنایا جاتا ہے۔ جے پور میں کاغذ بنانے والی ایک کمپنی کے مالک رضوان خان کہتے ہیں’ یہ بہت اچھی بات ہے کہ پہلے جو نوٹ جلائے جاتے تھے اب ان نوٹوں کو کارآمد کیا جا سکےگا۔ پہلے ہمیں کاغذ بنانے کا ’ خام مال‘ مہنگے داموں میں ملتا تھا لیکن پہلے کے مقابلے نوٹوں کی دستیابی کافی کم قیمت میں ہوگی۔ مسٹر رضوان کا کہنا ہےکہ نوٹوں کی ردی سے جو کاغذ بنے گا اس کی کوالٹی اچھی ہوگی کیوں کہ یہ نوٹ اچھے قسم کے کاغذ کے بنے ہوتے ہیں۔ جے پور میں کاغذ کی برآمداد کرنے والے محمد عمران کا کہنا ہے ’ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ حکومت ردی نوٹ ہمشہ ہی دستیا ب کرائے گی کیوں ہمیں پتہ ہے کہ سرکاری نظام کا کوئی بھروسہ نہیں‘۔ لوگ اس نئی تکنیک کا خیر مقدم کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس سے دو فائدے ہوں گے۔ ایک تو آلودگی کم ہوگی اور دوسرے بیکار اور پھٹے نوٹوں کا استعمال ہوگا۔ | اسی بارے میں دو روپے کے سکّے کا مذہب کیا ہے؟21 April, 2007 | انڈیا رقم کی وصولی کا انوکھا طریقہ21 August, 2005 | انڈیا انڈین بینکوں کے سود میں اضافہ 15 February, 2007 | انڈیا خاکروب کروڑ پتی بن گیا10 November, 2006 | انڈیا ویراپن کے ’خزانے کی تلاش‘ 22 October, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||