خاکروب کروڑ پتی بن گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کے ایک ہسپتال میں صفائی ملازم گریش راٹھوڑ رات و رات کروڑ پتی بن گئے ہیں۔ گریش نے ' پلے ون ' لاٹری کا سپر لوٹو جیک پاٹ انعام جیتا ہے ۔ اس انعام کی رقم دو کروڑ نو لاکھ اٹھارہ ہزار روپے ہے۔ اس سے قبل ممبئی کے سات افراد یہ جیک پاٹ جیت چکے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ خواب خریدے نہیں جاتے لیکن گریش نے اسے سچ کر دکھایا ہے۔ وہ گزشتہ چار برسوں سے لاٹری کا ٹکٹ اس امید میں خرید رہے تھے کہ کبھی نہ کبھی ان کی قسمت کی دیوی بھی مہربان ہوگی۔ بیالیس سالہ گریش ممبئی میونپسل کارپوریشن کے ماتحت ہسپتال کنگ ایڈورڈ ( کے ای ایم ) میں جھاڑو لگانے اور صاف صفائی کا کام کرتے ہیں۔ ساتویں جماعت کے بعد انہوں نے پڑھائی چھوڑ کر اپنے والد کی طرح جھاڑو لگانے کا کام شروع کیاتھا۔ ممبئی کے چنچپوکلی علاقہ میں ایک کھولی ( چھوٹا کمرہ ) میں اپنی بیوی دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے ساتھ رہتے ہیں۔ان کی پچانوے سالہ ماں بھی ہے جس کی دیکھ بھال گریش کرتے ہیں۔ ان کی ماہانہ تنخواہ دس ہزار روپے ہے لیکن بچوں کی تعلیم کے لئے انہوں نے ہسپتال سے قرض لیا تھا جس کی ادائیگی کی وجہ سے انہیں اب ماہانہ صرف پندرہ سو روپے ہی ملتے ہیں۔ اسی میں سے دس روپیہ سے وہ ہر ماہ ایک خواب خریدتے تھے جو اب شرمندہ تعبیرہواہے۔ اس دن کو یاد کرتے ہوئے گریش کی آنکھوں میں چمک بڑھ جاتی ہے۔وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ہمراہ اپنے بھتیجے کی سالگرہ منانے دادر میں واقع ان کے گھر جا رہے تھے۔ انہوں نے بیوی کوبس اسٹاپ پر کھڑا کیا اور خود لاٹری کی دکان پر جا کر ٹکٹ کا نمبر دیکھنے لگے۔ گریش کہتے ہیں چھ نمبروں کی جوڑی ملاتے ہوئے جب وہ آخری نمبر پر پہنچے توانہیں یقین نہیں آیا۔ جیک پاٹ کا نمبر انہی کا تھا۔ ان کے ہاتھ کانپنے لگے پسینہ چھوٹ گیا۔ اسی حالت میں وہ خاموشی کے ساتھ اپنی بیوی کے پاس آئے انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں تھا اس لئے انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ ٹکٹ نمبر ملا لے لیکن اگر نمبر صحیح ہیں تو شور نہ مچائے۔ بیوی نے بھی نمبر دیکھا وہ صحیح تھا۔ گریش اس خوشی کے سبب اس رات سو نہیں سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹکٹ انہوں نے اپنے سرہانے رکھ لیا تھا اور ساری رات اسے دیکھتے رہے تھے۔ گریش اس جیت کو اپنی والدہ کی دعاؤں کا اثر کہتے ہیں۔ ’میں ان روپیوں سے میری ماں کو ہر وہ سکھ دینا چاہتا ہوں جس کی انہوں نے اس زندگی میں تمنا کی ہو گی کیونکہ ماں نے کبھی آسائش کی زندگی نہیں گزاری‘۔ گریش اب اس چھوٹے مکان سے نکل کر بلند عمارت میں ایک بڑا سا فلیٹ خریدنے کی تیاری میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی بیوی ہمیشہ اونچی عمارتوں کی طرف اشارہ کر کے کہتی تھی کہ کیا وہ کبھی اس میں رہ سکتی ہے۔ گریش اپنی بیوی کا بھی خواب پورا کرنا چاہتے ہیں۔ گریش کو انعام کی رقم تین ماہ بعد ملے گی لیکن وہ اپنی نوکری نہیں چھوڑیں گے۔ گریش کا ماننا ہے کہ اسی ملازمت کی وجہ سے آج تک وہ اپنے بچوں کی پرورش کر سکے تھے۔ کروڑوں روپے اور خواب ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لیتے۔ گریش اس رقم سے اپنے بھائی کی مدد کرنا چاہتے ہیں اس کے علاوہ گجرات میں اپنے گاؤں ' مہوا ' میں اچھے کام کے لئے کچھ رقم بطور عطیہ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس رقم کو بے مصرف اڑانے کے بجائے گریس اپنے تینوں بچوں کے نام بینک میں رقم جمع کرینگے تاکہ بچے اعلی تعلیم حاصل کر سکیں۔ تیرہ نومبر گریش کا یوم پیدائش ہے اور یہ سال ان کی زندگی کو بدلنے اور خوابوں کی تکمیل کا سال ثابت ہوا ہے۔ | اسی بارے میں دھوکہ بازوں سے ہوشیار رہیں: پاکستان13 June, 2006 | پاکستان ’جیک پوٹ‘ کا وقت ختم ہونے کو02 January, 2006 | آس پاس آئرش خاتون کی 140 ملین کی لاٹری30 July, 2005 | آس پاس شہریت اور دولت ساتھ ساتھ29 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||