BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 May, 2007, 08:07 GMT 13:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لالو کے دیس میں ٹرین کو دھکہ

ٹرین
مسافروں نے ٹرین سے نیچے اتر کر اسے تقریباً ڈیڑھ میٹر تک دھکیلا
سڑکوں پر گاڑیوں کو دھکے دیکر آگے بڑھانے کے مناظر بہت عام ہیں لیکن گذشتہ دنوں بہار میں لوگوں نے ایک ٹرین کو دھکیل کر رواں دواں کیا۔

دلی۔پٹنہ مین لائن پر پٹنہ سے بکسر جا رہی ایک ای ایم یو ٹرین رگھوناتھ پور اسٹیشن کے پاس اس وقت اچانک کھڑی ہو گئی جب کسی مسافر نے ٹرین کا ویکیوم پائپ الگ کر دیا۔

بہار میں ٹرینوں کا اس طرح روکا جانا عام بات ہے لیکن کچھ ہی دیر میں ٹرین دوبارہ رفتار پکڑ لیتی ہیں تاہم مذکورہ ٹرین اس لیے آگے نہیں بڑھ پا رہی تھی کہ اسے بجلی نہیں مل رہی تھی۔

ایسٹ سنٹرل ریلوے کے میکینکل انجینیرنگ ڈپارٹمنٹ کے ایک سینیئر انجینیر نے بتایا کہ جن ٹریکز پر ٹرین بجلی سے چلتی ہیں وہاں دو پاور پوائنٹس کے درمیان چند میٹر کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اس فاصلے کو نیوٹرل زون کہا جاتا ہے۔ اتفاق سے ٹرین کا انجن نیوٹرل زون پر وہاں رکا جہاں سے یہ پاور پوائنٹ کچھ دور تھا۔

مسافر
انڈیا میں بڑی تعداد میں لوگ ٹرینوں میں سفر کرتے ہیں

اس ٹرین پر سوار مسافر غصے میں ٹرین کے ڈرائیور کے پاس پہنچے تو ڈرائیور نے حقیقی واقعہ بتایا اور مسئلے کا حل بھی بتا دیا۔ ڈرائیور کے مطابق اگر ٹرین اگلے پاور پوائنٹ تک پہنچ جائے تو ٹرین چل سکتی تھی۔اس مشورے پر تقریباً تمام مسافر ٹرین سے اترے اور ٹرین کو قریب ڈیڑھ میٹر تک دھکیل کر پاور پوائنٹ تک پہچنایا جس سے ٹرین نے رفتار پکڑ لی۔

پٹنہ میں ریلوے کے حکام نے اس واقعے کی توثیق کرتے ہوئے اسے اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ بتایاہے۔

بہار میں ٹرینوں کو ویکیوم کے سہارے روکنے کی شکایتیں عام ہیں اور پولیس کی تمام کوششوں کے باوجود اس روش پر قابو نہیں کیا جا سکا ہے۔ یہاں ایسے واقعات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں کہ جب کوئی ایک آدمی ٹرین پر سوار ہوکر ٹرین کو تب تک روکے رکھتا ہے جب تک کہ اس کے تمام ساتھی گاؤں سے ٹرین تک نہ پہنچ جائیں۔

اسی بارے میں
ریلوے بجٹ: کرائے میں کمی
26 February, 2007 | انڈیا
"غریب رتھ ایکسپریس"
04 October, 2006 | انڈیا
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد