لالو کے دیس میں ٹرین کو دھکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سڑکوں پر گاڑیوں کو دھکے دیکر آگے بڑھانے کے مناظر بہت عام ہیں لیکن گذشتہ دنوں بہار میں لوگوں نے ایک ٹرین کو دھکیل کر رواں دواں کیا۔ دلی۔پٹنہ مین لائن پر پٹنہ سے بکسر جا رہی ایک ای ایم یو ٹرین رگھوناتھ پور اسٹیشن کے پاس اس وقت اچانک کھڑی ہو گئی جب کسی مسافر نے ٹرین کا ویکیوم پائپ الگ کر دیا۔ بہار میں ٹرینوں کا اس طرح روکا جانا عام بات ہے لیکن کچھ ہی دیر میں ٹرین دوبارہ رفتار پکڑ لیتی ہیں تاہم مذکورہ ٹرین اس لیے آگے نہیں بڑھ پا رہی تھی کہ اسے بجلی نہیں مل رہی تھی۔ ایسٹ سنٹرل ریلوے کے میکینکل انجینیرنگ ڈپارٹمنٹ کے ایک سینیئر انجینیر نے بتایا کہ جن ٹریکز پر ٹرین بجلی سے چلتی ہیں وہاں دو پاور پوائنٹس کے درمیان چند میٹر کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اس فاصلے کو نیوٹرل زون کہا جاتا ہے۔ اتفاق سے ٹرین کا انجن نیوٹرل زون پر وہاں رکا جہاں سے یہ پاور پوائنٹ کچھ دور تھا۔
اس ٹرین پر سوار مسافر غصے میں ٹرین کے ڈرائیور کے پاس پہنچے تو ڈرائیور نے حقیقی واقعہ بتایا اور مسئلے کا حل بھی بتا دیا۔ ڈرائیور کے مطابق اگر ٹرین اگلے پاور پوائنٹ تک پہنچ جائے تو ٹرین چل سکتی تھی۔اس مشورے پر تقریباً تمام مسافر ٹرین سے اترے اور ٹرین کو قریب ڈیڑھ میٹر تک دھکیل کر پاور پوائنٹ تک پہچنایا جس سے ٹرین نے رفتار پکڑ لی۔ پٹنہ میں ریلوے کے حکام نے اس واقعے کی توثیق کرتے ہوئے اسے اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ بتایاہے۔ بہار میں ٹرینوں کو ویکیوم کے سہارے روکنے کی شکایتیں عام ہیں اور پولیس کی تمام کوششوں کے باوجود اس روش پر قابو نہیں کیا جا سکا ہے۔ یہاں ایسے واقعات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں کہ جب کوئی ایک آدمی ٹرین پر سوار ہوکر ٹرین کو تب تک روکے رکھتا ہے جب تک کہ اس کے تمام ساتھی گاؤں سے ٹرین تک نہ پہنچ جائیں۔ | اسی بارے میں ٹرینوں میں بڑھتی لوٹ کھسوٹ13 September, 2006 | انڈیا ’گاندھی سیتو‘، مسافر پریشان01 April, 2007 | انڈیا ریلوے بجٹ: کرائے میں کمی26 February, 2007 | انڈیا لالو کے ساس،سسر کا بنا ٹکٹ سفر14 February, 2007 | انڈیا "غریب رتھ ایکسپریس" 04 October, 2006 | انڈیا بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||