فنونِ لطیفہ اور اخلاقی تنگ نظری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں کچھ عرصے سے آرٹ، ادب، سنیما اور آزادی اظہار کے دوسرے فنون تنگ نظر اخلاقیات کی زد میں ہیں۔ ایک طرف فن پاروں، کتابوں اور پینٹنگز کے خلاف حملوں میں شدت آئی ہے اور دوسری جانب حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ چند روز قبل گجرات میں فن مصوری کے لیے مشہور ’ایم ایس‘ (مہاراجہ سیجئے راؤ) یونیورسٹی میں بی جے پی کے کارکنان کی شکایت پر ایک طالب علم کو جیل بھیج دیا گیا۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ تصویر دیوی دیوتاؤں کی توہین کرنے والی اور غیر شائستہ تھی۔ اس واقعے کے خلاف فنکاروں نے مظاہرے کیے ہیں اور اس بات پرتشویش ظاہر کی ہے کہ سماج میں تیزی سے عدم رواداری کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ طالب علم چندر موہن کو چار دن بعد رہا کردیا گیا لیکن جن لوگوں نے یونیورسٹی میں تخریب کاری کی تھی وہ آزاد ہیں اور اپنے کیے پر فخر بھی محسوس کر رہے ہیں۔ معروف نغمہ نگار جاوید اختر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ تنگ نظر تنظیمیں کرتی ہیں اور کئی بار حکومت بھی درپردہ اس کی حمایت کرتی ہے۔’یہ وہ لوگ ہیں جنہیں فن کی آزادی تو کیا انسانوں کی آزادی بھی پسند نہیں ہے، قابل افسوس بات یہ ہے کہ ایسے لوگ بڑی آسانی سے قانون اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور ان کے خلاف کچھ بھی نہیں ہوتا ہے۔‘ گلو کارہ شبھا مدگل نے کہا کہ ملک میں فنکاروں کے لیے دہشت کا ماحول ہے۔’مصور برش ہاتھ میں پکڑنے سے پہلے یہ سوچے کہ اسے تصویر بناتے وقت کن لوگوں کا خیال رکھنا ضروری ہے، گلوکار گانے سے پہلے یہ سوچے کہ کہیں اس نغمہ کے لیے اسے جیل تو نہیں جانا پڑےگا تو پھر فن کار کی تخلیق کا کیا ہوگا، سماج میں رواداری کو ختم ہوتے دیکھ کر بڑا افسوس ہوتا ہے۔‘ مصور رام رحیم کہتے ہیں کہ ملک میں بنیاد پرست دن بدن مضبوط ہوتے جارہے ہیں اور فنکار ان کا سب سے آسان نشانہ ہیں۔ بقول ان کے اب ان پر پہلے سے زیادہ حملے ہونے لگے ہیں۔’ بابری مسجد کے انہدام کے بعد سے ہندو نظریاتی تنظیموں نے یہ سیکھا ہے کہ وہ چاہے کچھ بھی کریں انہیں شہرت اور مرتبہ تو حاصل ہی ہوگا، بعض سیاسی جماعتیں ان کی آبـیاری کرتی ہیں تو بعض اپنے مفاد کے لیے ان کی حرکتوں پر جان بوجھ کر خاموش رہتی ہیں۔‘ لیکن بی جے پی کے رہنما نیرج جین جنہوں نے بڑودہ یونیورسٹی کی پینٹنگ کے خلاف پولیس کیس درج کرایا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض دیوی دیوتاؤں کی عریاں تصویریں بنائی گئی تھیں جسے ہندو سماج برداشت نہیں کرسکتا اس لیے انہوں نے ایسا کیا ہے۔’میں نے پولیس کی موجودگی میں کارروائی کی ہے اگر کسی میں ہمت ہو تو میرے خلاف شکایت کرے میں اس کا سامنا کروں گا، اگر میں نے غلط کیا ہے تومجھے سزا ملے گی۔‘ اظہار کی آزادی کا حق اور اس میں احتیاط برتنے کی بحث بہت پرانی ہے لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے تئیں بنیاد پرست تنظیموں کا رویہ اس لیے افسوس ناک ہے کہ انہیں جو نہ پسند ہو اس کے خلاف توڑ پھوڑ کرتی ہیں اور ان کے کارکن آزاد گھومتے رہتے ہیں جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
مصور مقبول فدا حسین کی بھی بعض تصاویر کو نقصان پہنچایا گیا تھا اور اس حوالے سے ان پر کئی مقدمات درج ہیں۔ حال ہی میں ادا کارہ شلپا شیٹی اور رچرڈ گیئر کے بوسے پر ملک کی کئی عدالتوں میں مقدمہ دائر کردیا گيا۔ ریاست مہاراشٹر اور راجستھان میں مذہب کی تبدیلی کے نام پر کئی پادریوں کی سر عام پٹائی کی گئی ہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان شادیوں پر ہنگامہ آرائی ہوئی ہے۔ ایسی خبریں ملک کے کونے کونے سے آتی رہتی ہیں لیکن فلم پرزانیہ اور فنا پر روک لگانے کی بات ہو یا یونیورسٹی میں گھس کر پینٹنگ توڑنے کی بات، ریاست گجرات ان سب میں سب سے آگے ہے۔ جاوید اختر کہتے ہیں کہ مذہب، کلچر، قومیت اور وطن پرستی جیسے الفاظ سب کے لیے قابل احترام ہوتے ہیں اور بنیاد پرست اسی کا سہارا لیکر سماج پر کنٹرول چاہتے ہیں۔’ یہ سب مذہب اور کلچر کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ طاقت کے اظہار کے لیے ہوتا ہے۔‘
شبھا مدگل کہتی ہیں کہ اگر یہی حال رہا تو کچھ دن بعد فن کاروں کو کچھ بھی کرنے سے پہلے سماج کے ٹھیکے داروں سے اجازت لینی پڑےگی۔: ’جیسے یہ لائن ’چلو متوا، بالم بگوا، ہم تم پیئیں مدوا اور کریں رنگ رلیاں‘ ممکن ہے بعض افراد کو یہ غیر شائستہ لگے جس کی بنیاد پر کئی کیس ہوسکتے ہیں، پھر میں ریاض کیا کروں گی، پورا وقت تو مقدمہ لڑنے میں گزر جائے گا۔‘ مصور رام رحیم کہتے ہیں کہ حکومت کے بعض اقدامات سے بھی بنیاد پرستوں کےحوصلے بڑھتے ہیں۔ ’حکومت نے فیشن ٹی وی اور ایکس این چینل پر یہ کہہ کر پابندی لگادی کہ وہ عریانی پھیلا رہے ہیں۔ سیاسی مفاد کے لیے یہ سرکار ’سافٹ ہندوتو‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اگر نیم عریاں ہندی ویڈیو اور فلمیں چوبیس گھنٹے دکھائی جاسکتی ہیں تواس کے مقابلے فیشن ٹی وی تو کچھ بھی نہیں ہے۔‘ زمانہ قدیم سے فنون لطیفہ میں ہندوستان کا بڑا نام رہا ہے۔ مصوری، مجسمہ سازی، ادب اور فلم میں اس کی ایک الگ پہچان ہے۔ آج بھی اس سمت میں بہت کام ہو رہا ہے لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق اب فن اور فنکاروں کے تئیں جذبہ ہمدردی کے بجائے ان کے خلاف نفرت زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے اور یہ ایک آزاد خیال اور ترقی پسند سماج کے لیے کوئی شگن نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ’نہ فن کی قدر ہے نہ فنکار کی‘13 May, 2007 | انڈیا علم، فن، شاعری اور عسکریت کاامتزاج 30 September, 2006 | انڈیا ایف ایم حسین نے معافی مانگ لی08 February, 2006 | انڈیا ایم ایف حسین کےمقدمےدلی منتقل04 December, 2006 | انڈیا حسین کو سپریم کورٹ سے راحت08 May, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||