ممبئی: بس ملازمین کی ہڑتال ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کی بیسٹ بسوں کی ہڑتال جمعہ کی شام ختم ہو گئی۔ بیسٹ کامگار یونین لیڈر شرد راؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ بیسٹ انتظامیہ نے ان کے مطالبات منظور کر لیے ہیں اس لیے ان کی تین روزہ ہڑتال دوسرے ختم کر دی گئی ہے۔ اس دوران بیسٹ انتظامیہ نے تمام ہڑتالی ملازمین کو وجہ بتاؤ نوٹس دیتے ہوئے کام پر واپس آنے کے لیے کہا تھا۔ انتظامیہ نے ملازمین کو انتباہ بھی کیا تھا کہ اگر وہ کام پر واپس نہیں آئے تو ان کی جگہ نئے ملازمین کی بھرتی شروع ہو جائے گی اور جمعہ کو ہڑتال کے دوسرے روز بھرتی شروع بھی ہوگئی۔ ذرائع کا دعوی ہے ہڑتال ختم کرنے میں ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل کا اہم کردار رہا ہے کیونکہ پاٹل نیشنلسٹ پارٹی کے لیڈر ہیں اور یونین لیڈر شرد راؤ کا تعلق بھی اسی پارٹی سے ہے۔ بیسٹ یونین ملازمین تنخواہ میں اضافے، تنخواہ کے سکیل پر نظر ثانی اور مہنگائی الاؤنس میں اضافہ جیسے مطالبات کو لے کر ہڑتال کر رہے تھے۔شرد راؤ اور دیگر چار یونینوں کے پینتیس ہزار کے قریب ملازمین نے تین روزہ ہڑتال بدھ کی رات بارہ بجے سے شروع کی تھی۔ بیسٹ کمپنی میں ہڑتال عموماً سال میں ایک بار ضرور ہوتی ہے کیونکہ بیسٹ یونین اور انتظامیہ کے درمیان مطالبات پر کبھی مصالحت نہیں ہوتی ہے۔ بیسٹ کے جنرل مینیجر اتم کھوبڑگڑے کا کہنا ہے کہ کمپنی 178.95 کروڑ روپے خسارہ میں چل رہی ہے اس لیے ملازمین کے مطالبات منظور نہیں کیے جا سکتے جبکہ یونین کا کہنا ہے کہ بیسٹ 276.50 کروڑ روپے منافع میں ہے۔ ممبئی شہر میں بیسٹ کی روزانہ تین ہزار چار سو بسیں چلتی ہیں جو شہر کی نقل و حمل کا دوسرا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ایک اندازے کے مطابق روزانہ چوالیس لاکھ مسافر ان بسوں سے سفر کرتے ہیں۔ دو روز جاری رہنے والی ہڑتال کی وجہ سے شہریوں کو بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس دوران ٹیکسی اور رکشہ والے میٹر پر چلنے کی بجائے من مانا کرایہ وصول کرتے رہے۔ | اسی بارے میں ممبئی میں بس ہڑتال، مسافر پریشان19 April, 2007 | انڈیا آسام: ہڑتال سے زندگی متاثر 04 April, 2007 | انڈیا نندی گرام: ہڑتال سے زندگی مفلوج 16 March, 2007 | انڈیا احتجاج، ہڑتال سے زندگی متاثر06 February, 2007 | انڈیا مغربی بنگال میں ہڑتال اور تشدد08 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||