BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 March, 2007, 17:07 GMT 22:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلی والوں کے لیے جرمانے بڑھ گئے

گزشتہ برس دلی کی سڑکوں پر آٹھ ہزار سے زائد حادثات ہوئے
اب ہندوستان کے دارالحکومت دلی کی سڑکوں پر اگر کوئی شخص گاڑی چلاتے ہوئےموبائل فون پر بات کر تے ہوئے پکڑا گیا تو اسے فوراً اپنی جیب سے پندرہ سو روپے نکالنے پڑيں گے۔

صرف یہی نہیں بلکہ اگر کوئی شخص گاڑی چلاتے وقت سگریٹ پیتے ہوئے یا پھر سرخ بتی کو توڑنے کی کوشش کرتے ، خطرناک ڈرائیونگ کرتے ہوئے یا پھرشراب پی کر گاڑی چلاتے ہوئے پکڑا گیا تو فوری طور پر اسے چھ سو سے پندرہ سو روپے تک کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

ایسا نہیں ہے کہ اس سے قبل ایسی حرکتوں پر جرمانہ نہیں دینا پڑتا تھا لیکن پیر کے روز دلی حکومت کے لیے ہائی کورٹ نے بعض نئے ضوابط جاری کیے ہیں جن کا مقصد شہر میں لمبے ٹریفک جام اور بے ترتیب پارکنگ جیسے مسائل پر قابو پانا ہے۔

عدالت نے اپنے احکامات کے ذریعے پہلے سے موجودہ جرمانوں کی رقم میں پانچ سو روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔

عدالت نے بس ڈرائیوروں کے لیے مزید سخت احکامات بھی دیے ہیں جن کے تحت تمام ان کے لیے یونیفارم پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے جبکہ ڈرائیور کے لیے بارہ جماعتیں اور کنڈ کٹر کے لیے دس جماعتیں پاس ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

ہائی کورٹ نے گاڑیوں کو اپنی قطار میں رکھنے کے لیے سخت اقدام کرنے کی ہدایات جاری کی ہيں اور ہلکی گاڑیوں کے لیے چالیس تا پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ بھاری گاڑیوں کے لیے پینتیس سے چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کی حدیں بھی مقرر کی ہیں۔

عدالت کے ان احکامات کے پیچھے راجیو اوستھی جیسے کئی افراد کی کوششوں کا دخل ہے جو کئی برس سے دلی کی ٹریفک کو درست کرنے کے لیے کوشاں تھے۔

عدالت کے فیصلے پر ان کا کہنا تھا ’ٹریفک نظام کو درست کر نے کے لیے ہم لوگ دو ہزار چار سے کوشاں تھے اور اس دوران ہم نے کافی تفصیلات جمع کیں اور گزشتہ دو میہنے سے عدالت میں ان پر بحث ہو رہی تھی۔‘

راجیو اوستھی نے یہ بھی کہا کہ عدالت نے اٹھارہ سے بیس احکامات جاری کیے ہیں اور یہ عوام کے مفاد میں ہیں کیونکہ ان سے مسافر پہلے سے زیادہ محفوظ ہوں گے اس لیے یہ احکامات کافی اہمیت کے حامل ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب دلی کی ٹریفک کے لیے اس قسم کے اصول و ضوابط دیے گئے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ٹریفک میں نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے کئی ضابطے بنائے گئے لیکن انکے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ اس بات کا اندازہ دلی کی سڑکوں پر آتے ہیں ہو جاتا ہے۔

کیا اس مرتبہ کچھ امید نظر آ رہی ہے؟

اس سلسلے میں دلی ٹریفک پولیس کے سب انسپکٹر راجندر سنگھ کا کہنا تھا ’ٹریفک ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں پر پہلے سے زیادہ جرمانے کی وجہ سے فائدہ ہوگا اور بس ڈرائیور مسافروں کو اٹھانے کے چکر میں جرمانے کے ڈر سے نئے احکامات کی خلاف ورزی نہیں کر سکيں گے۔‘

گزشتہ برس دلی کی سڑکوں پر آٹھ ہزار سے زائد حادثات میں مجموعی طور تقریباً دو ہزار لوگوں کی جانیں گئی جبکہ تقریبا 42 لاکھ جرمانے کے کیسز سامنے آئے۔ ان حالات میں ضرورت تو ایسے ہی احکامات کی تھی لیکن شاید عوام کو ان احکامات کی اہمیت اس وقت تک سمجھ میں آنا مشکل ہے جب تک ان کے ذہن سے یہ نہ نکل جائے کہ اصول تو توڑنے کے لیے ہی بنائے جاتے ہیں!

کشمیر میں فوجدلّی ڈائری
کشمیر میں فوج، پراسرار آگ اور ٹریفک جرمانے
گھوڑا گاڑیاں، ممبئی ممبئی کا مٹتا ماضی
ممبئی میں گھوڑا گاڑیاں ختم ہو جائیں گی
موبائل فونکشمیر:موبائل پابندی
موبائل پر پابندی بیماری کا علاج ہے یا علامت کا
طالبات طالبات کا ڈریس کوڈ
تامل ناڈو، بنا آستین لباس اور موبائل فون پر پابندی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد