BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 August, 2006, 11:43 GMT 16:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی کی گھوڑا گاڑیاں: مٹتا ماضی

گھوڑا گاڑیاں، ممبئی
ممبئی کی گھوڑا گاڑیوں ممبئی کے لوگ نہیں غیر ممالک سے آنے والے سیاح سفر کرتے ہیں
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے تجارتی دارالحکومت ممبئی کی سڑکوں پر آج بھی گھوڑا گاڑیاں چلتی ہیں؟ اس کا جواب ہاں بھی ہے اور نہیں بھی۔ گھوڑا گاڑی اب آمد و رفت کا ذریعہ نہیں ہے لیکن لوگ اب اس میں شوقین سواری کرتے ہیں اور وہ بھی ممبئی کے لوگ نہیں بلکہ غیر ممالک سے آنے والے سیاح۔ شادیوں میں اکثر مارواڑی اور اگروال طبقہ کے لوگ آج بھی برات گھوڑے پر نکالتے ہیں۔

چند دہائیوں قبل تک ممبئی کی سڑکوں پر گھوڑا گاڑیاں اور ٹرامیں چلا کرتی تھیں لیکن ممبئی نے تیزی کے ساتھ ترقی کی اور اب یہاں بیش قیمت غیر ملکی گاڑیاں بسیں اور ٹرینیں چلتی ہیں اس لیئے گھوڑا گاڑی کے لیئے جگہ ہی نہیں بچی۔ انگریزوں کے زمانے کی اس شاہانہ سواری کے ذریعے روزی روٹی کمانے کے لیئے منسلک لوگوں نے ایک راہ ڈھونڈھ ہی نکالی۔ اب وہ ان گھوڑا گاڑیوں کو ممبئی کے گیٹ وے آف انڈیا سے نریمان پوائنٹ تک رات کے اوقات میں چلاتے ہیں اور ان کی گاڑیوں میں ممبئی کی سیر کرنے آئے غیر ملکی سیاح بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ خوشنما سجی سجائی گھوڑا گاڑی میں رات کے خوشگوار موسم میں سفر انہیں شاہی سفر کا احساس دلاتا ہے۔

جنوبی ممبئی کے پرانے پلے ہاؤس علاقہ یعنی آج کا پٹھے باپو راؤ مارگ میں گھوڑوں کا طبیلہ ہے۔ اس کے تین مالک ہیں اور یہاں تقریبا پچاس گھوڑے ہیں۔ بیس کے قریب گھوڑا گاڑیاں ہیں۔ ان گاڑیوں کے کئی مالکان ہیں جو اسے کرایہ پر دیتے ہیں۔ بہار، دہلی، گجرات، مہاراشٹر سے روزگار کی تلاش میں آنے والے اس کام سے وابستہ ہیں۔

میں جاکی بن جاؤں گا یا کچھ اور لیکن اب گھوڑا گاڑی چلانتے رہنا ممکن نہیں

حاجی ابراہیم غازی گیارہ سال کی عمر میں گجرات سے اپنے والد کے ہمراہ ممبئی آئے تھے۔ ان کے والد گھوڑا گاڑی بناتے تھے ان کے انتقال کے بعد یہ ہنر انہوں نے اپنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ فن میرے مرنے کے بعد شاید ختم ہو جائے کیونکہ ممبئی میں میرے علاوہ اب اسے کوئی نہیں جانتا اور اس میں محنت زیادہ ہے اور پیسہ کم اس لیئے میں نے اپنے بیٹے کو بھی یہ ہنر نہیں سکھایا۔ ایک خوبصورت گھوڑا گاڑی بنانے پر ایک لاکھ روپے کی لاگت آتی ہے لیکن اب اسے کوئی نہیں بناتا۔ مجھے پرانی گاڑیوں کی مرمت کر کے جو کچھ مل جاتا ہے اس سے میرا اور میرے بچوں کا گزارہ ہو جاتا ہے‘۔

موتی لال تیرہ برس پہلے بہار سے ممبئی آئے۔ کوئی ہنر نہیں آتا تھا اس لیئے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیئے گھوڑا سواری سیکھی وہ اپنے گھوڑے کی خود دیکھ بھال کرتے ہیں۔ رات میں گیٹ وے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’غیر ملکی سیاح جو یا تو گیٹ وے کی سیر کے لیئے آتے ہیں یا پھر وہاں تاج محل ہوٹل میں قیام کرتے ہیں وہ اکثر میری گاڑی میں سیر کا لطف لیتے ہیں۔ ایک رات میں کبھی کبھی تین سو یا کبھی پانچ سو روپیہ تک بھی مل جاتے ہیں لیکن اس میں سے پولیس کا ہفتہ ضروری ہے نہ دینے پر مار کر بھگا دیتے ہیں یا پھر گاڑی کو ضبط کر لیتے ہیں اور دوسرے روز عدالت میں پیشی کے بعد چھٹکارا ملتا ہے‘۔

 ممبئی
جنوبی ممبئی کے پرانے پلے ہاؤس علاقہ یعنی آج کا پٹھے باپو راؤ مارگ میں گھوڑوں کا طبیلہ ہے

اشوک کیشو اہیرے مہاراشٹر کے نندوبار علاقہ سے ممبئی آئے پندرہ برسوں سے ممبئی میں ہیں۔ بارش میں لوگ گھوڑا گاڑی کی سواری نہیں کرتے لیکن صرف اسی پر انحصار نہیں ہے ورنہ تو زندگی محال ہو جاتی۔ جین فرقے کے مذہبی جلوس نکلتے ہیں ایسے میں وہ گاڑیاں کرایہ پر لیتے ہیں۔ مارواڑی، اگروال طبقے کے لوگ شادیوں میں برات کو گھوڑا گاڑی پر نکالتے ہیں ایسے میں ایک دن کے ہزار روپیہ بھی مل جاتے ہیں اس طرح زندگی کٹ جاتی ہے ورنہ کبھی کبھی تو ہفتوں کمائی نہیں ہوتی اور کبھی بھوکے بھی سونا پڑتا ہے‘۔

سلیم خان اس پیشے سے بہت خوش ہیں۔ دہلی سے ممبئی آئے سلیم کو گھوڑ سواری کا بچپن سے شوق تھا اور اسی لیئے انہوں نے اس پیشہ کو اپنایا۔ وہ گھوڑا گاڑی چلاتے ہیں لیکن اکثر وہ ممبئی کے کچھ علاقوں میں چلے جاتے ہیں جہاں والدین اپنے بچوں کو گھوڑے کی سواری کرانا چاہتے ہیں اور اس میں وہ ایک دن میں پانچ سو روپیہ کما لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’میں جانتا ہوں کہ اس کام کا کوئی مستقبل نہیں ہے لیکن کیا کروں اس کے علاوہ کوئی کام نہیں آتا میں شاید جوکی بن جاؤں اس میں بہت پیسہ ہے لیکن گھوڑا چلانا نہیں چھوڑوں گا‘۔

ممبئیممبئی: سچ کیا ہے؟
میڈیا کچھ کہتا ہے اور پولیس کچھ بھی نہیں
زندگی تھم گئی ہے
’بے شمار لوگوں کی زندگی بدل گئی‘
ممبئی کے سیکولر
شہر کے سیکولر شہریوں کی امن کوششیں
ممبئی کا سومناتھ
وہ دوائیں، کھانا اور روپے تقسیم کر رہے ہیں
ممبئی کی روِش
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد