جموں:ہندو مسلم کشیدگی،کرفیو نافذ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِانتظام جموں کشمیر کے ضلع پونچھ کے سرحدی علاقے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے حکام نے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ دونوں گروہوں کے درمیان تصادم دو روز قبل شروع ہوا تاہم کرفیو کا نفاذ ہفتے کی صبح سے کیا گیا ہے۔ جموں پولیس کے مطابق شہر سے تقریباً دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر سرحد کے پاس میندھر قصبے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایک زمین پر تنازعہ ہے اور دونوں برادریوں کا دعوی ہے کہ وہ زمین ان کی ملکیت ہے۔ دو روز قبل مسلمانوں نے اس زمین پر تعمیراتی کام شروع کیا تھا جس پر دونوں گروہوں میں تصادم شروع ہوا۔ پولیس کو اس تصادم میں شریک افراد پر قابو پانے کے لیے آنسوگیس استعمال کرنا پڑی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اس لیے احتیاطی طور پر کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ میندر قصبے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ وہ دونوں برادریوں کے رہنماؤں سے رابطے میں ہیں تاکہ مسئلے کو بآسانی حل کیا جا سکے۔ | اسی بارے میں کشمیر، امن عمل کو خطرہ ؟20 June, 2006 | انڈیا فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات07 October, 2006 | انڈیا آسام: موئراباری میں کرفیو نافذ19 November, 2006 | انڈیا گورکھپور میں بدستور کرفیو جاری01 February, 2007 | انڈیا گورکھپور: تشدد کے واقعات، کشیدگی31 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||