گورکھپور میں بدستور کرفیو جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست اترپردیش کے شہر گورکھپور میں پانچویں دن بھی کشیدگی برقرار ہے اور شہر کے بعض علاقوں میں بدستور کرفیو جاری ہے۔ شہر میں ہندو مسلم فسادات کے بعد سنیچر کے دن کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ پرکاش جیسوال کے دورے سے قبل مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت سے گورکھپور اور اس کے قریبی شہروں میں ہندو مسلم فسادات کی رپورٹ طلب کی تھی۔ مسٹر جیسوال نےگورکھپور میں اپنی جماعت کانگریس کے ممبران سے بات چیت کی ہے اور وہ تازہ صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ریاست کے اعلی افسران سے میٹنگ کر نے والے ہیں۔ بدھ کے روزگورکھپور کے پڑوسی شہر بستی، دیوریا اور مہاراج گنج میں بھی تشدد کے واقعات پیش آئے تھے۔ وہاں ابھی بھی حالات بدستور خراب ہیں۔ گورکھپور شہر میں دونوں فرقوں کے درمیان کوئی تازہ تشدد کا واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔ انتظامیہ نےگورکھپور شہر میں کرفیو ہٹانے کے بارے ایک میٹنگ طلب کی ہے۔ مقامی نامہ نگار کمار ہریش نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گزشتہ روز گورکھپور کے قریب دیوریا ضلع میں ایک ’انٹر سٹی‘ ٹرین کو جلانے کی کوشش کی گئی تھی۔ شہر میں کشیدگی کے سبب محرم کا روایتی جلوس بھی نہیں نکالا گیاتھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے مقامی علماء سے مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا۔ | اسی بارے میں تشدد کے بعد گورکھپورمیں کرفیو 29 January, 2007 | انڈیا تیسرے دن بھی کشیدگی برقرار 30 January, 2007 | انڈیا گورکھپور: تشدد کے واقعات، کشیدگی31 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||