تھرایکسپریس کی سکیورٹی سخت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں ریلوے کے حکام کا کہنا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں کے بعد بھارت اور پاکستان کےدرمیان چلنے والی ایک دیگر ٹرین تھر ایکسپریس میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیۓ گئے ہیں۔ تھرایکسپریس چھ ماہ کے وقفے کے بعدگزشتہ ہفتے دوبارہ شروع ہوئی ہے۔ بارش اور سیلاب کی وجہ سےاس ٹرین کی پٹریاں کئی مقامات پر خراب ہوگئی تھیں۔ شمال مغربی ریلوے کے ترجمان ایس بی گاندھی نے بی بی سی کو بتایا’مشتبہ افراد اور ان کے سامانوں کی تلاشی کے لیے سراغ رساں کتوں کی مدد لی جائےگی اور تھر ایکسپریس کو روانہ کرنے سے صرف نصف گھنٹے پہلے پلیٹ فارم پر لایا جائےگا۔‘ اس سے قبل ٹرین کافی دیر پہلے پلیٹ فارم پر آجایا کرتی تھی۔ مسٹر گاندھی کا کہنا تھا کہ ریلوے حکام سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکوں کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں اور ٹرین کی حفاظت کے لیے پولیس اہلکاروں کی تعداد میں بھی اضافے کا فیصلہ کیاگيا ہے۔ ان کا کہنا تھا’ ہم لوگ امن کی اس ٹرین میں پختہ حفاظتی انتظامات کو یقینی بنارہے ہیں۔‘ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کو اس ٹرین کے دوبارہ شروع ہونے کی اطلاع نہیں ہے اس وجہ سے ابھی کم مسافر اس ٹرین سے سفر کر رہے ہیں۔ تھرایکسپریس کا نام ’تھر ریگستان‘ کے نام پر رکھا گیا ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان واقع ہے۔ یہ ٹرین ہفتے میں ایک بار ہندوستان کی ریاست راجستھان میں موناباؤ سے پاکستان کے صوبہ سندھ کے کھوکھراپار قصبے کےدرمیان چلتی ہے۔اس کے آغاز کے چھ ماہ میں اس ٹرین سے تقریبا 31 ہزار مسافروں نے سفر کیا ہے۔ | اسی بارے میں تھر ایکسپریس تئیس دسمبر سے03 November, 2006 | پاکستان تھر ایکسپریس دس فروری سے10 December, 2006 | پاکستان تھر ایکسپریس، تمام ٹکٹ فروخت15 February, 2007 | پاکستان تھر ایکسپریس پھر سے بحال13 February, 2007 | انڈیا تھر ایکسپریس کے آغاز میں تاخیر24 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||