خلائی کیپسول کا تجربہ کامیاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی خلائی ایجینسی کا کہنا ہے کہ اس نے ایک خلائی کیپسول کا زمین کے مدار میں دوبارہ داخل ہونے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ کیپسول اس مہینے کے شروع میں ملک میں تیار کیے گئے ایک راکٹ اور تین دیگر مصنوعی سیاروں کے ساتھ خلا میں بھیجا گیا تھا۔ ان چار سیٹلائٹیس میں دو ہندوستانی ہیں جبکہ باقی دو کا تعلق ارجنٹینا اور انڈونیشیا سے ہے۔ خلائی ایجنسی ’اسرو‘ کے مطابق ’سپیس کیپسول ریکوری ایکسپریمنٹ سیٹلائیٹ‘ نامی یہ کیپسول پیر کی صبح واپس آ کر خلیج بنگال میں گر گیا ہے۔ بنگلور میں ’اسرو‘ کے اہلکاروں کے مطابق یہ تجربہ پوری طرح کامیاب رہا ہے اور خلا بازوں کو خلا میں بھیجنا اور ان کا زمین کے مدار میں واپس آنا کسی بھی خلائی تجربے کا ایک اہم پہلو ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ہندوستان نے مختلف سطحوں پر درجہ حرارت میں ہونے والی تبدیلوں اور ان کے خلائی جہاز پر پڑنے والے اثرات کا تجربہ کیا ہے۔ ہندوستان کے اس تجربے کی کامیابی کے بعد امریکہ، فرانس، روس، چین اور جاپان کے بعد چھٹا ایسا ملک بن گیا ہے جس کے اس طرح کی خلائی تکنیک ہے۔ ہندوستان چاند پر اپنے خلا باز بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں پہلے مرحلے کے طور پر 2008 میں ایک خود کار راکٹ چاند پر بھیجے گا۔ اس راکٹ کی زمین پر بحفاظت واپسی کے تجربے کے بعد اسرو چاند پر خلا باز بھیجے گا۔ | اسی بارے میں مصنوعی سیارہ کی تباہی کا سبب07 September, 2006 | انڈیا انسیٹ کی ناکامی پر اسرو ’اپ سیٹ‘11 July, 2006 | انڈیا ’ان سیٹ 4‘ لانچنگ کیلیئے تیار09 July, 2006 | انڈیا بھارت، امریکہ چاند کی کھوج میں09 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||