BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 January, 2007, 09:42 GMT 14:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلور تشدد میں ایک بچہ ہلاک
پولیس فورس
آر ایس ایس کارکنان نے مسلمانوں کی دکانوں پر حملے کیے ہیں
ہندوستان کے جنوبی شہر بنگلور میں گزشتہ روز ہوئے فرقہ وارانہ تشدد میں ایک بچہ ہلاک ہوگیا ہے اور چالیس افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک پولیس کانسٹبل بھی شامل ہے۔

پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے بچے کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
زخمی کانسٹبل کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

سب سے زیادہ متاثر مسلم اکثریتی علاقہ شیواجی نگر ہوا ہے جہاں تشدد کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔ علاقے میں تجارتی سرگرمیاں پوری طرح بند ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں پولیس دستے گشت کر رہے ہیں تاکہ امن وامان قائم ہو سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے شیوا جی نگر اور بھارتی نگر سے پیر کی صبح کرفیوں ہٹا لیا گیا ہے تاہم احتیاطی طور امتناعی احکامات نافذ ہیں۔

ریاست کے وزیر داخلہ ایم پی پر کاش نے کہا ہے کہ شہر کے دوسرے حصوں میں حالات معمول پر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فساد پر قابو پانے کے لیے متاثرہ علاقوں میں ریپیڈ ایکشن فورسز اور خصوصی پولیس دستے تعینات کیے گئے ہیں۔

بنگلور میں پندرہ سو سے زیادہ انفارمیشن ٹینالوجی کی کمپنیاں ہیں۔ زیادہ ترسافٹ وئیر کمپنیاں شہر کے مضافات میں ہیں اس لیے وہ علاقے متاثر نہیں ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کشیدگی کا آغاز اتوار کے روز سخت گیر ہندو تنظیم راشڑیہ سیوم سیوک سنگھ کی ایک ریلی کے دوران ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق ریلی میں شریک ’ آر ایس ایس‘ کے کارکنان نے دکانوں اور بسوں پر حملہ کیا۔ ان حملوں میں کم از کم تین بسیں نذرِ آتش کر دی گئیں تھیں۔

کرناٹک کے وزیر اعلی ایچ ڈی کمارا سوامی نے دونوں فرقوں سے امن کی بحالی کی اپیل کی ہے۔

مقامی مسلم رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ آرایس ایس کے کارکنان نے ریلی کے دوران مسلمانوں کی دکانوں پر حملہ کیا جس سے کئی دکانوں کو نقصان پہنچاہے۔

بنگلور میں گزشتہ جمعہ کو صدام حسین کی پھانسی کے خلاف ایک ریلی کے دوران دو گرپوں میں تنازعے کے سبب کئی افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اس ریلی میں بیس ہزار سے زیادہ مسلمانوں نے حصہ لیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد