انڈیا کے ’صدام حسین‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ شمالی بھارت کی ریاست بہار کے باقی کئی دیہاتوں کی طرح ایک عام سا گاؤں ہے۔ اس میں اینٹوں کے بنے ہوئے بغیر پلستر کے گھر، دھول سے اٹی ہوئیں گلیاں اور گندے بچے ہیں جن کے پاؤں میں جوتے نہیں ہیں اور ناک بہہ رہی ہیں۔ اس گاؤں میں بہتا پانی بہت کم نظر آتا ہے اور باقی انفراسٹرکچر بھی بہت کم ہے۔ لیکن لکھانئو کے اس گاؤں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں انہیں انفرادیت بخشتی ہے۔ یہ انفرایت کیا ہے؟ اعجاز عالم جو کہ تقریبًا پینتیس سالہ ایک سول کانٹریکٹر ہیں اس سوال کا جواب دیتے ہیں اور وہ یہ کہ انہوں نے اپنے تین سالہ بیٹے کا نام دوبارہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب وہ اپنے بیٹے کو مظہر عالم کی بجائے صدام حسین پکاریں گے ۔ نام اس نے اپنے بیٹے کو سابقہ عراقی صدر صدام حسین کے اعزاز میں دیا ہے جنھیں 30 دسمبر کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ یہ بچہ اس علاقے میں اکیلا صدام حسین نہیں ہے بلکہ صرف لکھنؤ میں ایسے افراد ہیں جن افراد ہیں جن کا نام صدام حسین ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے کے ستائیس دیہاتوں میں سو سے زائد صدام حسین ہیں۔ یہاں زیادہ اکثریت سنی مسلمانوں کی ہے۔ اس علاقے میں ایک ایسا خاندان بھی موجود ہے جس میں بڑے بھائی کا نام صدام حسین اور چھوٹے کا نام اسامہ بن لادن ہے۔
لیکن شائد ایسا اتفاقی طور پر نہیں ہوا ہے بلکہ 1991 میں جب پہلی مرتبہ امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو اس کے بعد پیدا ہونے والے تمام بچوں کا نام صدام حسین رکھا گیا۔ محمد ناظم الدین کا کہنا ہے کہ اس جنگ سے قبل یہ نام بہت کم رکھا جاتا تھا۔اس شخص کے پوتے کی پیدائش 1991 میں ہوئی تھی اور اس کا نام صدام حسین ہے۔ اور اب حال ہی میں عراقی رہنما صدام حسین کی پھانسی اور اس کی تصاویر کی اشاعت کے بعد لکھانئو کے دیہاتیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ہر نئے پیدا ہونے والے ڑکے کا نام صدام حسین رکھیں گے۔ اعجاذ عالم کا کہنا ہے ’ یہ ہمارا اپنے رہنماء کو خراج تحسین پیش کرنے کا طریقہ ہے۔ ہم کم از کم ان کی روایات کو اپنے گاؤں میں آگے بڑھائیں گے۔ اگر خدا نے چاہا تو ایک دن ہمارا گاؤں صدام حسینوں سے بھرا ہوا ہو گا‘۔ اس گاؤں کے باقی لوگ بھی اس معاملے میں ایسے ہی احساسات رکھتے ہیں۔ ایک مقامی رہنما ایوب خان کا کہنا ہے ’جارج بش ایک صدام حسین کو پھانسی لگا سکتا ہے لیکن ہم صدام حسینوں کی پوری فوج تیار کریں گے۔اس کو ہمارے گاؤں میں آنے دیں اور پھر دیکھیں کہ وہ صدام حسین کو کبھی بھی پھانسی نہیں لگا سکے گا‘۔
اس گاؤں میں کوئی شخص صدام حسین کے انسانی حقوق پامال کرنے کے ریکارڈ پر یا ان لوگوں کی فہرست پر جنہیں صدام نے قتل کیا اور اس کے غلط فیصلوں پر بات نہیں کرتا ہے۔ یہ سب چیزیں یہ لوگ صدام حسین کی شخصیت سے عقیدت کے باعث بھول گئے ہیں۔ اس گاؤں سے قریب صرف ایک پرائیویٹ سکول ہے جس کا نام دینی اکیڈمی ہے جہاں پر تقریبا سو صدام حسین لکھنا، پڑھنا اور سابقہ عراقی رہنما کے بارے سیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ ناظم الدین کا کہنا ہے’ یہ جنگ خلیج کے دوران ہمیں پتا چلا کہ صدام حسین کتنے بہادر تھے اور ان میں اتنی جرات تھی کہ انہوں نے امریکہ کے احکامات ماننے سے بھی انکار کیا‘۔ اس گاؤں کے لوگ اس بات کو کہنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے کہ امریکی صدر ان کی پسندیدہ شخصیت نہیں ہیں۔ زیادہ تر کا کہنا ہے کہ صدام حسین اس پھانسی کے بعد ’امر‘ ہو گئے ہیں۔ ان لوگوں میں سے بہت کم کو یہ پتا ہے کہ صدام حسین درحقیقت کون تھا لیکن یہ بات اس پروپیگنڈے کو پھیلنے سے نہیں روک رہی جس کے تحت یہ سمجھا جاتا ہے کہ صدام حسین کی حیثیت خدا کے برابر ہے۔ تو نئے صدام حسین اپنے ناموں کی تبدیلی کہ بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ ان کے خیالات سن کر اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ انہیں اس حوالے سے بچپن سے کیا بتایا جا رہا ہے۔ ایک ’چھوٹا صدام‘ جس کی پیدائش مئی 1993 میں ہوئی کہتا ہے ’مجھے اس بات پر فخر ہے کہ مجھے صدام حسین پکارا جاتا ہے۔ وہ بہت بڑا رہنما تھا، ایک شیر تھا جس نے امریکہ کو للکارا اور کمزورں کی ڈھال بنا‘۔ اس کا کہنا تھا ’میں بھی صدام حسین کی طرح بننا چاہتا ہوں اور اسی کی طرح مرنا چاہوں گا‘۔
اسی گاؤں کا ایک اور صدام جس کی پیدائش مئی 1992 میں ہوئی کہتا ہے ’ہم کوشش کریں گے کہ ہم اس عظیم جنگجو کے نام کی لاج رکھ سکیں‘۔ اسی طرح ایک اور لڑکے نے صدام حسین کو اپنا ’محبوب رہنما‘ قرار دیا۔ اس گاؤں کے عمر میں سب سے بڑے صدام حسین کی پیدائش پہلی جنگِ خلیج کے شروع ہونے کے فورًا بعد ہوئی وہ خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کرتے ہیں جس روز صدام حسین کو پھانسی دی گئی اس گاؤں کے تمام صدام حسین نامی لڑکوں کے گاؤں کی مسجد میں جمع ہو کر اس کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی۔ پھر انہوں نے ایک جلوس نکالا جس میں انہوں نے صدر بش کے پتلے کو نظرِ آتش کیا۔ اس گاؤں کے ایک شخص محمد حسین عباس کا کہنا ہے کہ گاؤں میں اتنے زیادہ صدام حسین ہو جانے سے صرف ایک مسئلہ ہے ’کھیل کے میدان میں ہمیں صدام حسین، صدام حسین کے پیچھے دوڑتا نظر آتا ہے، پیچھے صدام حسین ہوتا ہے اور اس کے آگے بھی صدام حسین لیکن وہ دوسرے صدام حسین سے کئی فٹ کے فاصلے پر ہے ۔۔۔یہ سب الجھن کا سبب بن سکتا ہے‘۔ | اسی بارے میں صدام کو پھانسی کے خلاف مظاہرے01 January, 2007 | آس پاس صدام کی موت سے خلیج گہری ہوگئی08 January, 2007 | آس پاس صدام کی پھانسی کی ایک اور ویڈیو09 January, 2007 | آس پاس صدام پھانسی پر اظہارِ افسوس 30 December, 2006 | انڈیا صدام کی پھانسی کے خلاف ہڑتال 05 January, 2007 | انڈیا صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی30 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||