BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 December, 2006, 10:41 GMT 15:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام پھانسی پر اظہارِ افسوس
صدام کی پھانسی
صدام کی پھانسی پر ہندوستانی عوام میں سخت ردعمل پایا جاتا ہے (فائل فوٹو)
عراق کے معزول صدر صدام حسین کو پھانسی دیے جانے پر ہندوستان کی حکومت نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وہیں عوام میں صدام کو پھانسی دیے جانے پر سخت ردِ عمل پایا جاتا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے ’ ہم نے پہلے بھی یہ امید ظاہر کی تھی کہ صدام کو پھانسی نہ دی جائے لیکن افسوس ہے کہ انہیں پھانسی دے دی گئی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس بدقسمت واقعے کے سبب عراق میں امن کا عمل متاثر نہ ہو‘۔

حکمران جماعت کانگریس کے رہنما جناردھن دیودی کا کہنا ہے’ جو کچھ ہوا وہ بہت برا ہوا۔ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ صدام کی سزا کا فیصلہ صحیح طریقے سے ہونا چاہیے۔ یہ فاتح کی کارروائی نہیں لگنی چاہیے۔ لیکن ہوا وہی جس طرح سے سماعت ہوئی اور فیصلہ سنایا گیا۔ پھانسی دینے میں جلد بازی کی گئی۔ اس سے اس پوری قانونی کارروائی پر ایک سوال اٹھتا ہے‘۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سینئر لیڈر نلوتپل باسو کا کہنا ہے’ جس جلد بازی میں صدام حسین کو پھانسی دی گئی ہے، اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ امریکہ اور اس کے حمایتوں کے سامنے عراق کی حکومت بے بس ہے‘۔

 جو کچھ ہوا وہ بہت برا ہوا۔ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ صدام کی سزا کا فیصلہ صحیح طریقے سے ہونا چاہیے۔ یہ فاتح کی کارروائی نہیں لگنی چاہیے۔ لیکن ہوا وہی جس طرح سے سماعت ہوئی اور فیصلہ سنایا گیا۔ پھانسی دینے میں جلد بازی کی گئی۔ اس سے اس پوری قانونی کارروائی پر ایک سوال اٹھتا ہے
کانگریس کے رہنما جناردھن دیودی

شیعہ رہنما مولانا سعید حامدالحسین کا کہنا ہے’صدام حسین کو پھانسی دیا جانا بالکل صحیح فیصلہ ہے۔ یہاں سوال شیعہ سنی کا نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس انسان نے اپنے ملک کے عوام پر ظلم کیے ہیں اسے یہ سزا ملنی ہی چاہیے تھی‘۔

سینئر صحافی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن تیستا سیتلواد کا کہنا ہے کہ صدام حسین کو پھانسی کی سزا دے کر امریکہ نے اپنے دوغلے رویے کا پوری دنیا کے سامنے اظہار کر دیا۔ افسوس کی بات ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے دو جمہوری ممالک ہندوستان اور امریکہ میں آج بھی پھانسی کی سزا دی جاتی ہے۔ امریکہ کی دوسری دوغلی پالیسی کا نمونہ دنیا کے سامنے ہے جب وہ ایک طرف فلسطین کے خلاف اسرائیل کی مدد کرتا ہے اور دوسری جانب مسلم ممالک میں جارحانہ انداز میں عمل دخل کے ذریعہ وہاں لوگوں کا سکون چین برباد کرتا ہے۔ صدام کو پھانسی دیے جانے کا مطلب ہے کہ امریکہ مسلم ممالک پر اپنی برتری ثابت کرنے اور انہیں یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ انہیں اسی طرح خاموش کر سکتا ہے۔

بیشتر افراد کاخیال ہے کہ صدام حسین کو پھانسی دیے جانے کا فیصلہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اس سے عراق میں حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔

دلی کی ایک دوکان کے مالک نریش کمار کا کہنا ہے کہ صدام حسین کی پھانسی کے پیچھے امریکہ کا ہی ہاتھ ہے اور وہ ہی یہ سب کروا رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اسلامی ممالک میں ایسے حالات تو پیش آتے ہی رہتے ہیں اور جو کچھ صدام حسین نے کیا اس کے لیے پھانسی کی سزا مناسب نہیں تھی۔

کشمیری سامان کے تاجر سجاد بٹ کا کہنا ہے ’صدام حسین ایک رہنما تھے اور انہيں پھانسی دینے کا فیصلہ بالکل غلط ہے۔ امریکہ نے پورا ڈرامہ تیار کیا تھا۔

صدام کو پھانسی کا پھندا لگایا جا رہا ہےآخری لمحات، کیا ہوا
موت سے آنکھیں ملانے کیلیے ہُڈ پہننے سے انکار
صدام حسینصدام کی پھانسی
امریکی صدر سمیت عالمی رہنماؤں کا ردِعمل
صدام حسینصدارت سے سولی
صدام حسین کی زندگی میں کب کونسے موڑ آئے
صدام حسینصدام کو پھانسی
معزول صدر کو پھانسی کی تصاویر
اسی بارے میں
صدام حسین کی پھانسی کی ویڈیو
30 December, 2006 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد