BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 January, 2007, 22:56 GMT 03:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوڑیسہ: ’عامل کے کہنے پر بیٹے قتل‘
اوڑیسہ کی پولیس
صحافیوں اور حکام کا کہنا ہے انہیں انسانی قربانی اگر سینکڑوں نہیں تو درجنوں واقعات کے بارے میں علم ہے
انڈیا کی مشرقی ریاست اوڑیسہ کی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے جوڑے کو گرفتار کیا ہے جن پر اپنے دو بیٹوں کو قتل کرنے کا الزام تھا۔

پولیس کے مطابق اس جوڑے نے بتایا کہ انہوں نے ایسا ایک عامل کہ کہنے پر کیا جس نے انہیں یقین دلایا تھا کہ ایسا کرنے سے ان کے دِن پھر جائیں گے اور ان کے بچے دوبارہ زندہ ہوں گے۔

اڑیسہ کے پولیس حکام کے مطابق پدملوچن گاہن اور ان کی بیوی میناتی نے اپنے بیٹوں کو، جن کی عمریں صرف آٹھ اور سات سال تھیں، گلا دبا کر ہلاک کیا۔ انہوں نے یہ دیوتاؤں کی خوشنودی کے لیے کیا۔

ان بچوں کے لاشیں گزشتہ ہفتے ان کے کچےگھر کے ایک چھوٹے سے کمرے سے دیوی دیوتاؤں کی تصاویر کے سامنے سے برآمد کی گئیں۔

ضلع کے پولیس انسپیکٹر نروشنگاہ چرن کے مطابق بچوں کے والدین اس بات کا دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے بچوں کو نہیں مارا بلکہ یہ سب خدا کی مرضی سے ہوا ہے۔

پولیس انسپکٹر نے بتایا کہ وہ بظاہر روحانی عامل جگن ناتھ تودو کی ہدایات پر عمل کر رہے تھے جنہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

تواہم پرستی بھارت کے کئی علاقوں خصوصا دیہاتوں اور پس ماندہ علاقوں میں بہت عام ہے۔ بچوں کو قربان کے واقعات ان علاقوں میں کئی مرتبہ ہوئے ہیں اور عاملوں کا معاشرے کے ایسے طبقات پر مکمل کنٹرول ہے جو کہ روحانیت پر یقین رکھتے ہیں۔

آٹھ ماہ قبل ایک لڑکے کی مسخ شدہ لاش اتراپردیش کے ایک گاؤں سے ملی تھی جس کو مبینہ طور پر اس کی ایک پڑوسن نے قتل کیا تھا۔ اس عورت نے بتایا کہ اس نے یہ قتل ایک عامل کے کہنے پر کیا تھا جس نے اسے بتایا تھا کہ اس لڑکے کو قربان کرنے سے اسے ڈراؤنے خواب آنا بند ہو جائیں گے۔

صحافیوں اور حکام کا کہنا ہے انہیں انسانی قربانی اگر سینکڑوں نہیں تو درجنوں واقعات کے بارے میں علم ہے۔

ایک نامہ نگار نے، جو انیس سو ستانوے سے بچوں کی قربانی کے حوالے سے خبریں دے رہے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ یہ عامل عمومًا مقامی لوگوں میں خوف کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر بیداری کی مہم چلانی ہوگی۔

اسی بارے میں
جادو ٹونا نہیں چلے گا
18 July, 2005 | انڈیا
بچے پھینکنے کے 20 روپے
25 August, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد