کرشمہ ساز بچے کی صحت پر تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی مشرقی ریاست اڑیسہ میں حکام نے اس تین سالہ بچے کی صحت سے متعلق تشویش ظاہر کی ہے جو لمبے فاصلے تک دوڑ کر خاصی شہرت حاصل کررہا ہے۔ بوڈھیا سنگھ جس نے حال میں ساٹھ کلومیٹر تک کا فاصلہ ساڑھے چھ گھنٹے میں طے کیا ہے کئی ٹی وی کمرشل میں بھی آیا ہے۔ لیکن ریاست کے حکام کا کہنا ہےکہ اتنے لمبے فاصلے تک دوڑنے سے بچے کے پھیپھڑے اور دل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اس بچے کے نگہبان ، برانچی داس نے اس خیال کو رد کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس بچے کا باقاعگی سے میڈیکل چیک اپ کیا جاتا ہے۔ اڑیسہ کے ریاست وزیر برائے کھیل دیباشیس نائک نے کہا ہے کہ حکومت اس بچے کے ساتھ کی جانے والی زیادتی کو خاموشی سے دیکھتی نہیں رہے گی بلکہ اس کے مستقبل کو بچانے کے لئے اقدامات کرے گی۔ بوڈھیا سنگھ نے حال میں پوری شہر سے بھوبھانیشور تک کا ساٹھ کلومیٹر کا فاصلہ مسلسل دوڑ کر طے کیا ہے۔ انڈیا کی سابق کھلاڑی پی ٹی اوشا نے بھی حال میں ریاست کے ایک دورے کے دوران یہ کہا تھا کہ اتنے لمبے فاصلے تک باقاعدگی سے دورتے رہنے سے بچے کی صحت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ لیکن بوڈھیا کے نگہبان برانچی داس کا کہنا ہے کہ تین ڈاکٹروں کی ٹیم بوڈھیا کا باقاعدگی سے معائنہ کرتی ہے کہ آیا اس کی صحت پر کوئی اثر پڑ رہا ہے یا نہیں۔ انڈیا کی سب سے غریب ریاست اڑیسہ میں بوڈھیا کی ماں نے اسے آٹھ سو روپے کے عوض بیچ دیا تھا لیکن برانچی داس نے ، جو جوڈو کے کوچ ہیں، بوڈھیا کا ٹیلنٹ دیکھنے کے بعد اسے خریدنے والے کو پیسے دے کر اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ | اسی بارے میں ’نچلی ذات کی خواتین پر ظلم‘24 September, 2005 | انڈیا دِلّی میں تیرھویں ہاف میراتھن ریس03 October, 2004 | انڈیا پاکستانی بھارتی ٹینس مقابلوں کافاتح10 October, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||