انڈمان : تعمیر نو پر عدم اطمینان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں کے ایک گروپ نے سونامی سے متاثرانڈمان، نکوبار جزیرے کی تعمیر نو میں مقامی لوگوں کو شامل نہ کرنے پر حکومت پر سخت سخت نکتہ چینی کی ہے۔ ’ایکشن ایڈ، نامی تنظیم کی سربراہی میں تین تنظیموں نے کہا ہے کہ انڈمان اور نکوبار جزیرے میں سونامی سے متاثرہ افراد اپنے نئے گھروں سےخوش نہیں ہیں۔ حکام کے مطابق 2004 کے سونامی میں انڈمان میں 3500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حال ہی میں متاثرہ افراد کو سٹیل اور ٹین سے بنے تقریبا ساڑھے آٹھ سو نئےگھروں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس علاقے میں اکثر زلزلے آتے ہیں اس لیے انڈمان میں روایتی طور پر لکڑی کے مکان بنائے جاتے ہیں جو زلزلہ کی صورت میں قدرے محفوظ مانےجاتے ہیں۔ لیکن پلاننگ کمیشن اور سنٹرل پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ نے متاثرین کے لیے سٹیل اور ٹین کے مکانات بنائے ہیں۔ مقامی قبائلی اور غیر سرکاری تنظیمیں حکومت کے اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ ایکشن ایڈ کی کارکن پرگیہ وتس کا کہنا ہے ’سٹیل اور ٹین کے مکان گرم اور مرطوب آب و ہوا والے انڈمان کے لیے غیر مناسب ہیں۔‘ سوسائٹی فار انڈمان نکوبار ایکولوجی کے کارکن سمیر آچاریہ کا کہنا ہے ’علاقے کے لوگوں نے ایسے مکانات کی تعمیرات پر سخت احتجاج کیا ہے۔ ایسے ایک گھر کی تعمیر کی قیمت تقریبا ایک لاکھ روپے ہوتی ہے۔‘
انکا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کو ایسے مہنگے مکانات کی ضرورت نہیں تھی۔’مکانات کی تعمیر کے لیے مقامی لوگوں کو کچھ اوزار، جنگلات سے لکڑی لانے کی اجازت اور محنت کے لیے انہیں مالی مدد کی ضرورت ہے۔‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈمان کی آبادی میں مختلف قبائلی برادری کے لوگ ہیں جن کے رہن سہن کے طور طریقے بھی مختلف ہیں۔ لیکن حکومت نے تمام لوگوں کے لیے ایک ہی جیسے مکانات تعمیر کرنے کے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تمام مکان عام وضع کے ہونگے جو سرکاری کوارٹر کی طرح نظر آتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ انڈمان کے لوگ طرز تعمیر کے ساتھ ساتھ مکان کے محل و قوع سے بھی ناخوش ہیں۔ مقامی قبائلیوں کی رہنما عائشہ مجید کا کہنا ہے’رپورٹ میں یہ بالکل صحیح لکھا ہے کہ مقامی لوگ سٹیل اور ٹین کے مہنگے مکانات کی خود مرمت نہیں کر سکتے۔‘ | اسی بارے میں بھارت: سونامی پر آل پارٹیز کانفرنس09 January, 2005 | انڈیا انڈامان میں امدادی سرگرمیاں تیز06 January, 2005 | انڈیا سونامی متاثرین کو دو روپے کا چیک 28 April, 2005 | انڈیا دو روپے کی سونامی امداد29 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||