سونامی متاثرین کو دو روپے کا چیک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سونامی لہروں کی تباہ کاریوں سے انڈیمان و نکوبار جزائر کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوا تھا لیکن جزیرے کی باسی چیرٹی چیمین نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ انہیں حکومت کی طرف سے معاوضے میں دو روپے ملیں گے۔ چیریٹی نان کومیری جزیرے پر رہتی ہیں۔ طوفان میں ان کے کاجو کے باغ اور مونگ پھلی کی فصل تباہ ہو گئی تھی جس کے ازالے کے طور پر انتظامیہ نے انہیں دو روپے کا چیک بھیجا ہے۔ چیریٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے کاجو اور مونگ پھلی کے 300 پیڑ سونامی میں تباہ ہو گئے۔ اس نقصان کی مالیت تقریبا 50 ہزار روپے ہے لیکن اگر حکومت نے نقصان کا اندازہ صحیح طریقے سے لگایا ہوتا تو بھی مجھے پانچ چھ ہزار روپے ملے ہوتے۔ آپ معاوضے میں دو روپے تو نہیں دیتے‘۔ انتظامیہ نے اسی قسم کا مضحکہ خیز معاوضہ بعض دوسرے لوگوں کو بھی دیا ہے۔ کارنکوبار جزیرے کے ڈینئل یونس کو معاوضے میں 41 روپے ملے ہيں۔ ان کی کیلے اور مونگ پھلی کی پوری فصل تباہ ہوگئی تھی جس میں صرف کیلے کے 300 پیڑ تھے۔ یونس کا کہنا تھا کہ’جزیرے میں زراعت کے محکمے کے اہلکاروں کو بظاہر یہ پتہ نہیں ہے کہ ایک پیڑ کو پھل کے مرحلے تک تیار کرنے میں کتنا پیسہ صرف ہوتا ہے‘۔
اسی طرح یونس کے ایک پڑوسی ہنری کو کیلے کے 131 پیڑ تباہ ہونے پر انتظامیہ نے 145 روپے کا چیک بھیجا ہے۔ ہنری کا کہنا ہے کہ ’اتنے پیسوں میں سو کیلے بھی نہیں خریدے جا سکتے‘۔ نکوبار جزیرے کی قبائلی یوتھ ایسوسی ایشن کے صدر رشید یوسف کا کہنا ہے کہ ’ انتظامیہ نے ان تباہ حال باشندوں کے ساتھ یہ سب سے بڑا مذاق کیا ہے۔ ان میں سے بیشتر سب کچھ کھو چکے ہیں۔ تین مہینے کے انتظار کے بعد انتظامیہ اب اس قسم کے مضحکہ خیز معاوضے دے رہی ہے‘۔ پورٹ بلیئر میں ماحولیات کی ایک انجمن کے صدر آچاریہ نے کہا ہے کہ محکمہ زراعت کے اہلکاروں نے موقع پر صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ان جزیروں کا دورہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ’وہ اپنے دفتروں میں بیٹھے رہے اور مضحکہ خیز چیک جاری کرتے رہے‘۔ نکوبار جزیرے میں بیشتر قبائلی کسان ہیں اور انہیں جو معاوضہ دیا گیا ہے وہ 26 دسمبر کے سونامی کے قہر سے ہونے والی تباہی کا جائزہ لینے کے بعد دیا گیا ہے۔ نقصانات کا اندازہ محکمہ زراعت نے لگایا تھا لیکن کسی نے یہ نہیں سوچاتھا کہ معاوضے کی رقم دو روپے بھی ہو سکتی ہے۔ ہندوستان کی حکومت نے زرعی نقصانات کے ازالے کے لیے تقریبا 500 کروڑ روپے جاری کیے ہیں محکمہ زراعت کے ایک اعلی افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس پورے معاملے کے لئے محکمہ محصولات ذمےدار ہے۔ اس اہلکار کے مطابق جزیرے کے لیفٹینٹ گورنر رام کاپسے نے بھی معاوضے کی رقم کی ادائیگی کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||