BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلی: تاجروں کی ہڑتال کا تیسرا دن

احتجاج کے دوران دکانداروں نے توڑ پھوڑ بھی کی
ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں تاجروں کی ہڑتال بدھ کو تیسرے روز بھی جاری رہی۔ شہر کے مختلف علاقوں ميں پتھراؤ، لاٹھی چارج اور احتجاجی مظاہروں کے سبب معمول کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

دلی کے تاجروں نے میونسپل کارپوریشن کی غیر قانونی دکانوں کو بند کرنے کی کارروائی کے خلاف تین روزہ ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

پورے شہر میں بیشتر دکانیں بند تھیں اور کئی علاقوں میں مظاہرین نے سڑکیں جام کرنے کی کوشش کی ۔ مشتعل تاجروں نے دلی کی وزير اعلی شیلا دکشت کے خلاف نعرے بازی کی اور پولیس پر پھتراؤ بھی کیا۔

گزشتہ دو روز سے شہر کے بیشتر بازاروں میں دکانیں بند رہیں لیکن حالات معمول پر رہے تھے۔ ہڑتال کے پہلےروز شہر کے تقریباً تمام سکول احتیاط کے طور پر بند کر دیئے تھے اور دواؤں کے دکانداروں نے بھی ہڑتال میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں کیمسٹ کی دکانوں نے تو ہڑتال ختم کر دی لیکن جب نرسنگ ہومز بھی ہڑتال میں شامل ہو گئے تو عوام کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔

دلی میں کئی جگہ روکاوٹیں کھڑی کرکے کے ٹریفک روک دیا گیا

رہائشی علاقوں میں واقع دکانوں کو بند کرنے کے خلاف ستمبر میں اسی طرح کے احتجاج کے دوران چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے دکانیں بند کرنے کے حلف نامہ داخل کرنے والے تاجروں کو دیوالی اور عید ہونے کے سبب انہیں 31 اکتوبر تک مہلت دے دی تھی۔

میونسپل کارپوریشن نے سپریم کورٹ کے حکم کے تحت گزشتہ برس غیر قانونی دکانوں اور عمارتوں کو منہدم کرنے کا کام شروع کیا تھا۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے سبب تقریباً پانچ لاکھ تاجر متاثر ہوں گے۔ جس میں ان تاجروں کے لواحقین بھی شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے سیلنگ کی کارروائی پر نگرانی کرنے کے لیئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے ۔ اور مرکزی وزیر شوراج پاٹل کی سربراہی میں مرکزی حکومت نے وزراء کا ایک گروپ تشکیل دیا ہے۔

اس گروپ نے تاجروں کی ہڑتال کا جائزہ لینے کے بعد سپریم کورٹ کی نگراں کمیٹی سے دو نومبر سے ’سیلنگ‘ نہ شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔ وزراء کے گروپ کی میٹنگ کے بعد شہری ترقی کے وزیر جےپال ریڈی نے کہا کہ ’موجودہ حالات کے بارے میں مانٹرنگ کمیٹی کو مطلع کر دیا گیا ہے اور اب آگے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے ہاتھوں میں ہے۔‘

مسٹر ریڈی کا کہنا تھا کہ ’دلی میں حالات نازک ہیں اور ایسے حالات میں سیلنگ کرنا ٹھیک نہیں ہوگا۔‘

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ حکمراں کانگریس اور حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں ہی تاجروں کی حمایت کر رہی ہیں اور کئی مقامات پر ان جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی مظاہروں کی قیادت کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد