BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 October, 2006, 07:20 GMT 12:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پرنب مکھرجی، نئے وزیرِ خارجہ؟

پرنب مکھرجی
وزیرِ خارجہ کے عہدے کے لیے وزیر دفاع پرنب مکھرجی کا نام کئی دنوں سے صحافتی حلقوں میں لیا جا رہا ہے۔
نٹور سنگھ کو وزیر خارجہ کے عہدے سے ہٹائےجانے کے تقریباً ایک برس بعد وزیر اعظم منموہن سنگھ نئے وزیرِ خارجہ کا تقرر کرنے والے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ تجربے کی بنیاد پر پرنب مکھرجی کو نیا وزیرِ خارجہ مقرر کیے جانے کا اشارہ کیا گیا ہے۔

پیر کی رات کانگریس صدر سونیا گاندھی سے صلاح و مشورے کے بعد وزیرِاعظم نے کابینہ میں ردو بدل کے لیے ایوانِ صدر سے منگل کی شام تک کا وقت مانگا ہے۔ حلف برداری کےلیے ساڑھے سات بجے کا وقت مقرر کیا گیا ہے لیکن نصف رات گئے عید کے چاند کے اعلان سے حلف برداری اب ملتوی ہو سکتی ہے۔ روایت یہ رہی ہے کہ عموماً تہواروں کے دن حلف برداری کی تقریب سے گریز کیا جاتا ہے۔

وزیرِ خارجہ کے عہدے کے لیے وزیر دفاع پرنب مکھرجی کا نام کئی دنوں سے صحافتی حلقوں میں لیا جا رہا ہے۔ وہ نرسمہا راؤ کے اقتدار میں وزارتِ خارجہ کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔ مسٹر مکھرجی، مسٹر سنگھ کی کابینہ میں سب سے سینیئر وزیروں میں سے ایک ہیں اور انہیں مسٹر سنگھ اور پارٹی صدرر سونیا گاندھی دونوں کا اعتماد حاصل ہے۔

مسٹر مکھرجی کے تبادلے کی صورت میں وزارتِ دفاع کی قیادت کے لیے جو نام لیے جا رہے ہیں، ان میں محکمۂ بجلی کے وزیر سشیل کمار شندے کا نام سب سے اوپر ہے۔ اس طرح کی بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وزیر داخلہ شیو راج پاٹل کو بھی دفاع کا قلمدان دیا جا سکتا ہے۔ کانگریس رہنما دگوجے سنگھ، ویرپا موئلی اور ایس ایم کرشنا کے نام بھی اس وزارت کے لیے لیے جا رہے ہیں۔

پیر کی شب رات دیر گئے تک وزیرِاعظم صلاح و مشورہ کرتے رہے تھے اور اس سلسلے میں سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر کپل سبل نے بھی ان سے ملاقات کی ہے۔ اتلنگانہ راشٹر سمیتی کے رہنما چندر شیکھر راؤ کے مستعفی ہونے کے بعد محنت کی وزارت بھی خالی پڑی ہے اور اسے بھی پُر کیا جانا ہے۔ اس کےعلاوہ اس رد و بدل میں بعض وزراء مملکت بھی مقرر کیے جائیں گے۔

مرکزی کابینہ میں آخری رد و بدل گزشتہ جنوری میں کیا گیا تھا جس میں کابینہ میں توسیع کی گئی تھی اور اٹھارہ نئے وزیرشامل کیے گئے تھے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ‏عیدالفطر ہونے کی وجہ سے آج حلف برداری ہوگی یا نہیں لیکن اطلاعات کے مطابق ایوانِ صدر پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق حلف برداری کی تقریب کے لیے تیارہے ۔

اسی بارے میں
بھارت کی نئی کابینہ
23 May, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد