’موسیقی آنکھوں سےسنی جارہی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کےمعروف سرود نواز استاد امجد علی خان کے مطابق کلاسیکی گائکی کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران موسیقی سے زیادہ ادب پرتوجہ دی جاتی ہے اور اسی لیے کسی بھی شخص کو بہترین موسیقار بننے کے لیے موسیقی کی تعلیم حاصل کرنا بےحد ضروری ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں خان صاحب نے کہا کہ اس دور میں لوگ موسیقی کوآنکھوں سےسن رہے ہیں، کان سے نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس دورمیں لوگوں میں ادب کے ساتھ ساتھ تہذیب اور تمیز بھی کم ہو گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں’ کہ آج کے دور میں موسیقی پوری طرح سےمغربی ممالک سے متاثر نظر آتی ہے اور اس کے سبب آہستہ آہستہ ہم اپنی اصل شناخت کھوتے جا رہے ہیں‘۔ ان کے مطابق ’ویسٹرنائزیشن‘ کی وجہ سے ہی آج ہمیں اپنی تہذیب پرفخرنہیں رہا ۔وہ کہتے ہیں کہ’ آج اگر کسی ہندوستانی یا پھر پاکستانی کے ساتھ ملاقات کے بعد ایسا محسوس ہو کہ کسی انگیرز سے بات چیت کر رہے ہیں تواس سے زیادہ افسوس کی بات کوئی نہیں ہو سکتی ہے‘۔ استاد امجد علی خان کا ماننا ہے کہ مغرب سےمتاثر ہونےمیں کوئی نقصان نہیں ہے لیکن اس کی ضرورت ہماری موسیقی میں بالکل نہیں ہے۔ چھ برس کی عمر سے سرود بجانے کی شروعات کرنے والے امجد علی خان گزشتہ نصف صدی سے زيادہ عرصہ سے سرود بجا رہے ہیں ان کےمطابق بنگال ،مہاراشٹر اور جنوبی علاقوں میں کلاسیکی گائکی اور موسیقی سمجھ والے لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور ان لوگوں کے سامنے بجانے کا مزا ہی کچھ الگ ہوتا ہے۔ انہيں آج بھی اپنے بچپن کے وہ دن یاد ہیں جب وہ اپنے والد حافظ علی خان کے ساتھ بہار اور اتر پردیش جیسی ریاستوں کے اندرونی علاقوں میں 'کانسرٹ' کیا کرتے تھے۔ لیکن آج ان ریاستوں کے حالات پرانہیں گہرا افسوس ہے۔
پچھلی پانچ نسلوں سے اپنے خاندان کی سرود بجانے کی روایت کو آگے بڑھانے کے بعد اب خان صاحب کےدونوں لڑکے امن اور ایان اس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ خان صاحب نےان دونوں کی سرود میں دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شروع سے ہی انکی یہ کوشش تھی کہ دونوں بچوں کا رجحان اچھی موسیقی کی طرف ہو اور وہی ہوا بھی۔ خان صاحب کے مطابق ان کے بیٹوں کی کامیابی میں ایک اہم کردار ان کی والدہ سبھ لکشمی کا ہے کیونکہ ہر شخص کا ’پہلا گرو‘اس کی والدہ ہوتی ہے۔ کیا اپنے لڑکوں کو سرود بجانے کی تعلیم دینے کے دوران انہوں نے اپنے دوسرے شاگردوں کے ساتھ نا انصافی کی ہے ؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’منزل پر پہچانےوالا خدا ہی ہے اور جس طرح اچھی خوشبو کو کوئی روک نہیں سکتا اسی طرح بد بو کو بھی روکا نہیں جا سکتا ہے اسی طرح جو شاگرد اچھا ہوگا تواسے آگے بڑھنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ لیکن اولاد کو یہ حق پیدائشی طور پرحاصل ہے کہ وہ اپنے والدین سے تربیت لےسکے اور اس حق کو کوئی چھین نہیں سکتا ہے‘۔ | اسی بارے میں نوشاد کا نورجہان کو خراجِ تحسین20 December, 2005 | فن فنکار فرید ایاز: خسرو کے سنگ23 June, 2006 | فن فنکار عناصر میں ظہورِ موسیقی کا خالق21 August, 2006 | فن فنکار وہ سُر میں الوہیت کے متلاشی تھے 22 August, 2006 | فن فنکار شاعری کی ’ان فراموش ایبل شام‘30 June, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||