BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 October, 2006, 14:07 GMT 19:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نرسری داخلے، انٹرویوز پرپابندی

اب بچوں سے انٹریو کے بجائے داخلے کے لیئے بعض پیمانے طے کیے گئے ہیں
ہندوستان کی ایک عدالت نے ایک اہم فیصلے میں دلی کے پرائیوٹ نرسری سکولوں میں چھوٹے بچوں کے داخلے کے لیئے بچوں اور ماں باپ کے انٹرویو پر پابندی لگا دی ہے۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق اب بچوں سے انٹریو کے بجائے داخلے کے لیئے بعض پیمانے طے کیے گئے ہیں جس میں انہیں سو پوائنٹس میں سے پوائنٹ سکور کرنے ہیں۔ داخلے کے لیئے ضابطے کے تحت ان بچوں کو ترجیح دی جائے گی جو سکول کے قریب رہتے ہیں یا پھر جن کے بہن بھائی پہلے سے اس سکول میں پڑھتے ہیں۔

ہندوستان میں چھوٹے بچوں کے نرسری سکول میں داخلے کے لیئے ابھی تک بچوں اور ان کے ماں باپ کو لمبے انٹرویو سے گزرنا پڑتا ہے۔ لیکن سکولوں کے اس نظام کے خلاف والدین کی سخت مخالفت کے بعد ہائی کورٹ نے یہ اہم فیصلہ لیا ہے جس کے تحت چھوٹے بچوں اور والدین کے انٹرویوز پر پابندی عائد کردی ئی ہے۔

دلی کے پوش لٹل ونڈرز سکول کی پرنسپل سونیا جولی کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس فیصلے سے بچوں کو فائدہ ہوگا۔ کیونکہ چھوٹے بچے اکثر انٹریو کے وقت نروس ہوجاتے ہیں اور انہیں داخلہ نہیں مل پاتا۔ انھوں نے مزید کہا ’ہم لوگوں پر بچوں کے امتحان کی تیاری کا اتنا دباؤ رہتا تھا کہ ہم بچوں کو دوسری ایکٹویٹیز نہیں سکھا پاتے تھے۔ اب ہم ان کو آرٹ، میوزک اور دیگر چیزوں کی تعلیم دے سکے گے‘۔

کیمبریج سکول کی ٹیچر ریٹا گرور کا ماننا ہے کہ 4 برس کی عمر کے سبھی بچے ایک جیسے ہوتے ہیں اور ان کا انٹرویو کرنا حماقت ہے۔ ان کا کہنا ہے ’اگر سکول میں انٹرویو ہونگیں بھی تو آپ ایک بچے کے بارے اس چھوٹے سے انٹرویو میں کتنا جان سکیں گے۔ چھوٹے بچوں کو سکول میں بالکل فریش بھیجنا صحیح ہے تاکہ سارے بچے ایک ساتھ مل کر نئی چیزیں سیکھیں‘۔

ٹیچر
’سکول میں انٹرویو ختم کرنے کا عدالت کا فیصلہ صحیح ہے‘

کیمبرج سیکنڈری سکول کی پرنسپل انو رائے کا خیال ہے کہ سکول میں انٹرویو ختم کرنے کا عدالت کا فیصلہ صحیح ہے لیکن عدالت کی شرائط کے مطابق ان بچوں کی ترجیج دی جائے گی جن کے ماں باپ زیادہ پڑھے لکھے ہوں یا پھر جو بچے سکول کے پاس رہتے ہوں۔ ان کا کہنا تھا اس سے سکولوں میں نہ صرف ایک ہی طرح کے بچے داخل ہونگیں بلکہ ماں باپ اپنی پسند کے سکول میں بچے کو صرف دوری کی بنیاد پر نہیں بھیج سکتے ہیں۔

وہیں بہت سے والدین بھی نئے سسٹم سے زیادہ خوش نہیں۔ زینب ‏سلیم کا بیٹا لٹل ونڈر سکول میں پڑھتا ہے۔ زینب کا کہنا ہے کہ نیا نظام صحیح نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے ’نئے اصولوں کے تحت لڑکیوں کو پانچ پوائنٹس مفت میں ملیں گے۔ میرا بیٹا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ میرے پانچ پوائنٹ ختم ہوگئے‘۔

سویدھا داس کا ماننا ہے کہ ’مجھے اس بات سے پریشانی ہے کہ میں صرف انہیں سکولوں میں اپنے بچے کے داخلے کے فارم بھر سکتی ہوں جو میرے گھر کے قریب ہیں۔ اگر میں دور کے کسی سکول میں اپنے بچے کو داخل کرانا چاہتی ہوں تو میرے دس پوائنٹ ختم ہو جائیں گے۔ اس سے ہماری آزادی ختم ہوجاتی ہے۔ ہم اپنی پسند کے سکول میں اپنے بچے کو نہیں بھیج سکتے‘۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک رہائشی کالونی میں عموما ایک سے زائد اچھے پرائیویٹ سکول نہیں ہوتے اور یہ مناسب نہیں ہے کہ ایک سکول میں ہزاروں بچوں کو داخلہ دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ صرف پرائیویٹ سکولوں کے لیئے نہیں بلکہ سرکاری سکولوں پر بھی نافذ ہونا چاہیئے کیونکہ اگر حکومت چاہے تو سرکاری سکولوں کو’ نیبرہوڈ سکولوں‘ میں تبدیل کرکے زیادہ سے زیادہ بچوں کو داخلہ دے سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد