جسم چھلنی ہوا ہے روح نہیں ، کیرتی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیرتی اجمیرا، ونائیک ، جلجیت سنگھ اور نتن پردھان بارہ مارچ انیس سو ترانوے کے ممبئی میں ہوئے بم دھماکوں کے متاثرہ افراد میں سے چند ہیں جو گزشتہ تیرہ برسوں سے عدالت کے فیصلہ کے منتظر تھے لیکن اب وہ مطمئن ہیں۔ کیرتی اجمیرا کی عمر 49 سال ہے۔ ان کا اس وقت ایک چھوٹا سا ذاتی کاروبار ہے۔ بم دھماکے میں زخمی ہونے کے بعد سے ان کے تقریباً چالیس آپریشن ہو چکے ہیں اس کے باوجود ان کے جسم میں ابھی بھی کانچ کی کرچیاں موجود ہیں جو اکثر انہیں تکلیف دیتی ہیں۔ دھماکوں کے وقت کو یاد کر کے کیرتی آج بھی لرز جاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس روز وہ اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں داخل ہو رہے تھے کہ یکایک زور کا دھماکہ ہوا۔ عمارت کی اوپری منزل سے شیشہ ٹوٹ کر ان کے پھیپھڑوں کے اندر تک گھس گیا۔ دوسرا ان کے چہرے کے سیدھے حصہ اور سیدھے کان کو کاٹتا ہوا ان کے ہاتھ میں دھنس گیا۔ ہاتھ لٹک گیا تھا۔ اس وقت انہیں اتنا احساس ہو گیا تھا کہ بم دھماکہ ہوا ہے اور اگر وہ جلدی ہسپتال نہیں پہنچے تو ان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ ہر طرف خون اور لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ اسی حالت میں وہ ایک ٹیکسی تک تو پہنچے لیکن پھر انہیں ہوش نہیں رہا۔ ہسپتال پہنچ کر ہوش آیا تو ایک بھی بستر خالی نہیں تھا۔ کسی زخمی کی موت ہوئی اور وہ بستر کیرتی کو مل گیا۔ وہ دو ماہ تک ہسپتال میں تھے۔ ان دومہینوں میں ڈاکٹروں نے ان کے بدن سے کانچ کے ٹکڑے نکالے جو انہوں نے ابھی تک سنبھال کر رکھے ہیں۔ کیرتی کے مطابق اس وقت غیر ملک سے کوئی پلاسٹک سرجن ممبئی آئے تھے جو بم دھماکوں میں زخمیوں کا مفت علاج کر رہے تھے۔ انہوں نے ان کے چہرے کی پلاسٹک سرجری کی۔ کیرتی کو ڈاکٹر کا نام یاد نہیں ہے لیکن انہیں یہ یاد ہے کہ ڈاکٹر نے ان سے کہا تھا کہ وہ بغیر بے ہوشی کی دوا سنگھائے منہ کے اندر سے ٹانکے لینا چاہتے ہیں اور کیرتی تیار ہو گئے تھے کیونکہ ان کے مطابق ستر فیصد جسم چھلنی تھا اور ویسے ہی وہ درد برداشت کر رہے تھے۔
کیرتی انصاف کے لیئے گزشتہ تیرہ برسوں سے انتظار کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ ’ابو سالم جیسے ڈان بنانے والوں کو سزا ملنی چاہیئے۔ یہ تو سامنے کے مہرے ہیں اور انہیں جس طرح چاہا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انصاف اس وقت پورا ہو گا جب انسانوں میں چھپے بھیڑیوں کو سزا مل سکے‘۔ ونائیک کی کہانی مختلف ہے ۔اسے اب فیصلہ کا انتظار نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اتنی دیر پہلے ہی ہو چکی ہے کہ اب کیا ہوگا زیادہ تر ملزمان بری ہو جائیں گے کچھ کو سزا ہو گی لیکن اصل ملزمان تو ملک سے باہر ہیں۔ ونائیک ان کے بھائی وسنت (گیارہ سال ) اور بہن ششی کلا ( انیس سال ) ورلی بس میں سوار تھے جب بس میں دھماکہ ہوا اور بس کے پرخچے اڑ گئے۔ انہیں آج بھی اپنی بہن کا آدھا جسم اور بھائی کا مسخ چہرہ یاد ہے۔ ستائیس سالہ بے روزگار ونائیک کہتے ہیں کہ کئی برس تک انہیں لگا کہ وہ خود دہشت گرد بن جائیں اور اس کے ذمہ داروں کو مار ڈالیں لیکن پھر رفتہ رفتہ ان کا غُصّہ ٹھنڈا ہوا۔ ممبئی اسٹاک ایکسچنج کے باہر پکوڑی فروخت کرنے والے جلجیت سنگھ کے جسم میں بھی کیرتی کی طرح کرچیاں موجود ہیں۔ سنگھ کو ان سے اکثر تکلیف ہوتی ہے۔ دھماکوں کو یاد کر کے وہ سہم جاتے ہیں لیکن اتر پردیش سے کام کی تلاش میں ممبئی آئے سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ ممبئی چھوڑ کر وطن واپس نہیں جا سکتے کیونکہ وہاں کام نہیں ہے۔ نتن پارکر نے ان دھماکوں میں اپنی بہن اوشا کو کھو دیا تھا۔ ہر برس راکھی کے تہوار پر انہیں بہن کی بہت یاد آتی ہے اور تب انہیں لگتا ہے کہ بم دھماکہ کرنے والے سبھی ملزمان کو پھانسی کی سزا دی جانی چاہیئے۔ | اسی بارے میں ممبئی: 1993 کے دھماکوں پر فیصلے12 September, 2006 | انڈیا فرقہ وارانہ فسادات: متاثرین کو انصاف ملےگا؟ 21 September, 2006 | انڈیا بم دھماکے1993: مجرم نو ہو گئے21 September, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکہ : عبدالغنی قصوروار 19 September, 2006 | انڈیا ہمیں انصاف کب ملے گا ؟13 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||