BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہاراشٹر: پیٹرول پمپ ہڑتال

مہاراشٹر کے پیٹرول پمپ
سیلز ٹیکس میں اضافے کے خلاف مہاراشٹر میں پیٹرول پمپ ماکان نے مکمل ہڑتال کی ہے
مہاراشٹر کے دو ہزار دو سو پیٹرول پمپ اتوار رات بارہ بجے سے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال پر ہیں۔ اس ہڑتال سے ممبئی میں لوگوں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پیٹرول پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ بڑھائے گئے سیلز ٹیکس میں کمی اور ان کے دیگر مطالبات کو حکومت نے مسترد کر دیا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے یہ حتمی قدم اٹھایا ہے۔

مہاراشٹر حکومت نے پیٹرول، سی این جی اور ڈیزل مالکان پر چونتیس فیصد ٹیکس عائد کیا ہے جو پمپ مالکان کے مطابق بہت زیادہ ہے کیونکہ گوا میں یہ ٹیکس صرف اکیس فیصد اور آندھرا پردیش اور گجرات میں اٹھایئس فیصد ہے۔

آل مہاراشٹر پیٹرول ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر روی شندے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہڑتال سو فیصد مکمل ہے اور مہاراشٹر کے 2200 پمپ مکمل طور پر بند ہیں۔

روی شندے کا کہنا ہے کہ جب ریاستی حکومت نے سیلز ٹیکس میں اضافہ کیا تھا تو اُس وقت بھی انہوں نے ہڑتال کی دھمکی دی تھی لیکن مرکزی وزیر برائے پیٹرولیم مرلی دیورا کی مداخلت کے بعد انہوں نے ہڑتال کا ارادہ ملتوی کر دیا تھا۔ جب تین ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی حکومت نے اس ٹیکس میں کوئی کمی نہیں کی تو انہیں مجبورًا نے یہ ہڑتال کرنی پڑی ہے۔

ٹیکسی ڈرائیور حسین خان
 آج گھر خالی ہاتھ جانا پڑے گا اور اگر یہی ہڑتال کچھ اور جاری رہی تو ان کے گھر میں فاقوں تک نوبت آ جائے گی۔

روی شندے کے مطابق سلیز ٹیکس میں کمی کے ساتھ ان کے چند اور مطالبات بھی ہیں جن میں کمیشن بڑھائے جانے کا مطالبہ ہے اور اس کے علاوہ رینٹ کنٹرول قانون کی وجہ سے ممبئی کے تقریبًا 80 آؤٹ لیٹ بند ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت رینٹ کنٹرول قانون میں تبدیلی کرے اور اس کے ساتھ ہی جو پیٹرول پمپ کسی وجہ سے خسارے میں جا رہے ہیں ان کی مدد کی جائے۔

پیٹرول پمپ بھی ضروری اشیاء کے قانون کے تحت آتے ہیں اور یہ ہڑتال نہیں کر سکتے۔ لیکن روی شندے کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انہیں جیل میں ڈال دیا جائے کیونکہ خسارے کی تجارت کے باعث اکثر مالکان بہت ناخوش اور پریشان ہیں۔

اس ہڑتال کی وجہ سے ہوئے ذرائع آمدورفت بہت زیارہ متاثر ہیں

مہاراشٹر میں اس وقت صرف پرائیوٹ کمپنیوں کے چند پیٹرول پمپ کام کر رہے ہیں۔اس ہڑتال کی وجہ سے ممبئی اور پونا میں لوگوں کو سب سے زیادہ پریشانی اور مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ممبئی میں چالیس ہزار کے قریب ٹیکسیاں ہیں جو سی این جی سے چلتی ہیں۔ لیکن پیٹرول پمپ بند ہونے کی وجہ سے سی این جی سے چلنے والی ٹیکسیاں اور رکشے بھی بند ہو چکے ہیں۔ ممبئی کے 256 پیٹرول پمپوں میں سے116 پر سی این جی ملتی ہے۔

دفاتر اور سکول جانے والوں کو بہت مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ لوگ ٹیکسیوں کے لئے بھاگتے پھر رہے ہیں۔ ٹیکسی ڈرائیور حسین خان کا کہنا تھا کہ وہ کرائے کی ٹیکسی چلاتے ہیں اور آج انہیں مالک نے ٹیکسی دینے سے منع کر دیاہے جس کی وجہ سے انہیں آج گھر خالی ہاتھ جانا پڑے گا اور اگر یہی ہڑتال کچھ اور جاری رہی تو ان کے گھر میں فاقوں تک نوبت آ جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد