BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 August, 2006, 12:27 GMT 17:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگٹی ہلاکت، المناک نقصان: انڈیا

انڈیا نے اکبر بگٹی کی ہلاکت کو افسوسناک قرار دیا ہے
ہندوستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اکبر بگٹی کی ہلاکت بلوچستان اور پاکستان کے عوام کے لیئے ایک المناک نقصان ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ’اس سانحے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فوجی طاقت سے سیاسی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ بلوچستان میں فوجی کارروائی جس میں نواب بگٹی کے دو پوتے یا نواسے بھی ہلاک ہوئے اور بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں، اس حقیقت کی غماز ہیں کہ بلوچستان کے عوام کےمسائل کے حل اور ان کی تمناؤں کے تکمیل کے لیئے پُرامن مذاکرات کی ضرورت ہے‘۔

بیان میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا گيا ہے کہ انہوں نے پاکستان کی سیاست میں چار عشرے سے زیادہ عرصے تک نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی موت سے جو خلا پیدا ہوا ہے اُسے پُر کرنا مشکل ہوگا۔

ہندوستان نے چند ماہ قبل بلوچستان میں قوم پرستوں کے خلاف فوجی کارروائی پر شدید ردعمل ظاہر کیا تھا اور حکومت پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ وہ حقوق انسانی کی سنگین پامالی کا ارتکاب کر رہی ہے۔

پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ہندوستان پر الزام لگایا تھا کہ وہ بلوچستان میں شورش کو ہوا دے رہا ہے اور اس طرح کے بیانات دے کر وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔

 ہندوستان کے تمام اخبارات نے بلوچ رہنماء کی ہلاکت کی خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ ملک کے ٹی وی چینلز پر بھی یہ خبر شہ سرخیوں میں ہے

آئندہ ماہ ہوانا میں غیر وابستہ ممالک کے سربراہوں کا اجلاس ہونے والا ہے اورگزشتہ ماہ کی تلخیوں کے بعد وزیراعظم منموہن سنگھ اور پاکستان کے صدر پرویز مشرف کے درمیان ملاقات کی توقع کی جا رہی ہے۔ حکومت کے قدرے محتاط بیان کو اسی متوقع میٹنگ سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

حکومت کے برعکس حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بی جے پی نے نواب بگٹی کی ہلاکت پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کے ایک سینئر رہنما شیو شنکر پرساد نے کہا کہ کشمیر میں خودمختاری اور حقوق انسانی کی بات کرنے والوں کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیئے۔

مسٹر پرساد نے کہا کہ بلوچستان میں فوج حقوق انسانی کی بدترین پامالی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستان میں سیاسی اختلا‌ف کے لیئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

ہندوستان کے تمام اخبارات نے بلوچ رہنماء کی ہلاکت کی خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ ملک کے ٹی وی چینلز پر بھی یہ خبر شہ سرخیوں میں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد