مشروبات پرپابندی، امریکی وارننگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے ایک سینئر اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا میں کوکا کولا اور پیسی کے مشروبات پر پابندی سے وہاں مستقبل میں امریکی سرمایہ کاری کی امید مانند پڑ سکتی ہے۔ امریکی انڈر سیکرٹری فار انٹرنشینل ٹریڈ فرینکلن لیون کا کہنا تھا کہ ان مشروبات سے متعلق حالیہ تنازعہ انڈین معیشت کے لیئے ایک دھچکا ہے۔ انہوں نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب انڈیا غیرملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے ایسے میں یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہو گی کہ اس معاملے میں وہ لوگوں کامیاب ہو جائیں جو ملک میں غیرملکی کمپنیوں کو پھلتے کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز کی امریکی سربراہ کرن پرسریچا کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ امریکی کمپنیاں اس پابندی کو مستقبل میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے اہمیت نہیں دیں گی۔ دہلی کے ماحولیات سے متعلق ایک غیر سرکاری تنظیم کی ان اطلاعات کے بعد کہ کچھ امریکی کمپنیوں کے تیار کردہ مشروبات میں زہریلے اجزاء موجود ہوتے ہیں، انڈیا کی چھ ریاستوں نے پیپسی اور کوکا کولا کے مشروبات پر جزوی یا مکمل پابندی کا اعلان کیا ہے تاہم ان کمپنیوں کا اصرار ہے کہ ان کی مصنوعات ہر لحاظ سے محفوظ ہیں۔ کرن کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ امریکی کمپنیاں اس تنازعے کو مقامی سیاست کا شاخسانہ تصور کرتے ہوئے اسے مستقبل میں سرکایہ کاری کے منصوبوں پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گی۔ | اسی بارے میں کیرالا: کوک، پیپسی پر پابندی09 August, 2006 | انڈیا بوتل میں کونڈوم، پیپسی کو جرمانہ27 April, 2006 | انڈیا کوک پیپسی کا استعمال بطور جراثیم کش06 August, 2006 | انڈیا ’کوک، پیپسی ایک کیڑے مار دوا‘02 November, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||