قیمت کے تعین کے لیئے مشیر کا تقرر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان گیس کی قیمت طے کرنے کے لیئے نئی دلی میں دو روزہ بات چیت بے نتیجہ ختم ہوگئی ہے اور تینوں ملکوں نے اس مسئلے پر ایک بین الاقوامی مشیر متعین کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ایران سے پاکستان اور بھارت کے لیے ایک مشترکہ گیس پائپ لائن پر بات چیت کافی دنوں جاری ہے لیکن قیمت پر اختلافات کے سبب بات آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔ پاکستان، بھارت اور ایران کے حکام کے درمیان نئی دلی میں دو روزہ بات چیت کے اختتام کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا گيا ہے کہ قیمت کے مسئلے پر تینوں ملک ایک ’بین الاقوامی مشیر متعین کریں گے جو اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لےگا‘۔ اس مشیر کی رپورٹ پر بات چیت کے لیئے تینوں فریق تہران میں پھر ملاقات کریں گے۔ پاکستان اور ہندوستان کا کہنا ہے کہ ایران گیس کی جس قیمت کا مطالبہ کرہا ہے وہ بہت زیادہ ہے اور اس قیمت پر وہ اپنے صارفین کو گیس نہیں فرہم کرسکتے ہیں۔ ایران ایک برطانوی تھرمل یونٹ گیس کی قیمت سات اعشاریہ دو ڈالر طلب کر رہا ہے جبکہ پاکستان اور بھارت اسے چار اعشاریہ دو ڈالر دینا چاہتے ہیں۔ ایرانی پٹرولیم کے ڈپٹی وزیر ایم ایچ نژاد حسینی نے کہا کہ تینوں ملک مجوزہ گیس پائپ لائن کے پراجیکٹ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن’اسے خریدنے والے وہ قیمت پیش کر رہے ہیں جو فروخت کرنے والے کے مطالبے کا نصف ہے‘۔ بھارت کے پیٹرولیم وزیر مرلی دیورا نے کہا کہ بین الاقوامی مشیر چار پانچ ہفتوں میں اپنی رپورٹ تیار کر لےگا جس پر مزید بات چیت کے لیئے تینوں فریق تہران میں ملاقات کریں گے۔ پاکستانی محکمہ پٹرولیم کے سیکرٹری احمد وقار کا کہنا تھا کہ قیمت کے سوال پر وہ بھارتی موقف کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ہم ایران اور پاکستان کے درمیان باہمی گیس پائپ لائن اور بھارت کے ساتھ سہ فریقی پائپ لائن دونوں پر بات کر رہے ہیں۔ اگر قیمت پر بات طے ہوگئی تو ہم بھارت کے بغیر بھی باہمی پائپ لائن کے پراجیکٹ پر کام کریں گے‘۔
ایرانی وزیر مسٹر حسینی کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے بھارت اور پاکستان کو سستی قیمت پر گیس کی پیش کش کی ہے جبکہ یورپی ممالک اس سے زیادہ قیمت دینے پر راضی ہیں۔ ان کے مطابق’ ہر ملک اپنے مفاد کے پیش نظر فیصلہ کرے گا‘۔ ماہرین کا کہنا ہے قیمت کے مسئلے پر کوششیں اپنے آخری مرحلے میں ہیں اور اگر یہ معاملہ طے نہ ہوا تو ممکن ہے بھارت اس پراجیکٹ سے پیچھے ہٹ جائے۔ تینوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدے کے مطابق 2775 کلومیٹر لمبی پائپ لائن ایران سے پاکستان کے راستے ہندوستان کی ریاست راجستھان کے سرحدی علاقے بیکانیر تک آئے گی۔ اس پائپ لائن سے ہر روز تقریباً ایک سو پچاس ملین کیوبک میٹرگیس کی سپلائی کی بات کی گئی تھی۔ معاہدے کے مطابق گیس پائپ لائن بچھانے کا کام دو ہزار سات سے شروع ہونا ہے اور دو ہزار گیارہ میں اس پائپ لائن سے قدرتی گیس کی فراہمی شروع ہو سکے گی۔ اب تک تینوں ممالک میں بات چیت کے کئی دور ہوچکے ہيں لیکن تقریباً ہر مرتبہ بات چیت کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی ختم ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں ایران گیس قیمت: تعین کیلیئے کمیٹی03 August, 2006 | انڈیا ایران، انڈیا پائپ لائن پر بات چیت 03 August, 2006 | انڈیا ایران پائپ:امریکی موقف میں نرمی 05 March, 2006 | انڈیا گیس پائپ لائن پر بات چیت شروع 12 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||