BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 August, 2006, 17:58 GMT 22:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران گیس قیمت: تعین کیلیئے کمیٹی

فائل فوٹو
امریکہ اس منصوبے کا مخالف ہے۔
ایران، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مشترکہ گیس پائپ لائن کے لیئے بھارت کے دارالحکومت دلی میں سہہ فریقی بات چیت کے پہلے دن تینوں ممالک نے گیس کی قیمت کا تعین کرنے کے لیئے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیاہے۔

دو روز تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں تینوں ممالک کے تیل اور پٹرولیم کے اہلکار شرکت کر رہے ہیں۔

ہندوستان کے محکمہ پٹرولیم کے سکریٹری ایم ایس سرینیواسن نے بات چیت کے بعد بتایا کہ قیمت مقرر کرنے کے لیئے جو کمیٹی تشکیل د ی گئی ہے اس میں تینوں ملکوں کی جانب سے ایک ایک ممبر شامل ہوگا۔

مسٹر سرینیواسن نے بتایا کہ ’اس مرتبہ نئے سرے سے طریقہ کار اختیار کرنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے اور ماہرین کی یہ کمیٹی اب پورے معاملے پر نئے سرے سے غور کرے گی‘۔

مسٹر سرینیواسن نے مزید بتایا کہ یہ کمیٹی صلاح و مشورے کے بعد جمعے کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

اطلاعات کے مطابق بھارت چاہتا ہے کہ سرحد تک گیس لانے کے لیئے گیس کی فی یونٹ قیمت مقرر کر دی جائے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ قیمت کو بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے منسلک کیا جائے۔

بات چیت میں پاکستان کی طرف سے شرکت کرنے والے محکمہ توانائی کے مشیر مختار احمد کا کہنا تھا: ’مجھے نہیں لگتا کہ اتفاق رائے کہنا صحیع ہوگا لیکن فریق اس بات سے متفق ہیں کہ گیس کی ایک مناسب اور باہمی طور پر قابل قبول قیمت طے ہونی چاہیئے‘۔

تینوں ممالک کے ورکنگ گروپس کے درمیان بات چیت کا یہ تیسرا دور ہے۔ اس سےقبل مئی میں تینوں ممالک کے پٹرولیم سکریٹریز نے اسلام آباد میں اس مسئلہ پر بات کی تھی۔

قیمت کا مسئلہ
 مجھے نہیں لگتا کہ اتفاق رائے کہنا صحیع ہوگا لیکن فریق اس بات سے متفق ہیں کہ گیس کی ایک مناسب اور باہمی طور پر قابل قبول قیمت طے ہونی چاہئے۔
پاکستانی مندوب

اس وقت ایران نے بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت کی بنیاد پرقدرتی گیس فراہم کرنے کے لیئے 7.2 امریکی ڈالر فی ملین بی ٹی یو کی قیمت کی پیشکش کی تھی اور ساتھ ہی سالانہ تین فی صد کی شرح سے ان قیمتوں میں اضافے کی بھی تجویز پیش کی تھی لیکن ہندوستان صرف 4.25 امریکی ڈالر فی ملین بی ٹی یو دینے کو تیار تھا۔

تینوں ملکوں کے درمیان کیئے گئے معاہدے کے مطابق 2775 کلومیٹر لمبی پائپ لائن ایران سے پاکستان کے راستے ہندوستان کی ریاست راجستھان کے سرحدی علاقے بیکانیر تک آئے گی۔

اس پائپ لائن سے ہرروز تقریبا ایک سو پچاس ملین کیوبک میٹرگیس کی سپلائی کی بات کی گئی تھی۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ گیس پائپ لائن سے دو ہزار گیارہ میں قدرتی گیس کی فراہمی شروع ہوسکے گی۔

اب تک تینوں ممالک میں بات چیت کے کئی دور ہوچکے ہيں لیکن تقریبا ہر مرتبہ بات چیت کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی ختم ہوئی ہے۔ معاہدے کے مطابق گیس پائپ لائن بچھانے کا کام دو ہزار سات سے شروع ہونا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد