انڈیا: آٹو موبائل کی ابھرتی صنعت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چند برس قبل تک ہندوستان میں کاریں عیش و آرام کا ذریعہ سمجھی جاتی تھیں لیکن تیزی سے بدلتی ہوئی معیشت میں یہ اب زندگی کا اہم حصہ بن گئی ہیں۔ کاروں اور موٹر سائیکلوں کی صنعت ہندوستان کی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے۔ گزشتہ برسوں میں اس انڈسٹری میں ترقی کی رفتار بہت تیز رہی ہے۔ پچیس ارب ڈالر مالیت کی اس صنعت میں گزشتہ برس گیارہ لاکھ کاریں اور ستر لاکھ موٹر سائکلیں فروخت کی گئيں۔ سوسائٹی آف انڈین آٹو موبائل مینوفیکچررز کے ڈائریکٹر جنرل دلیپ چنائے کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں اس برس کاروں کی فروخت ميں سات فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ موٹر سائیکلوں کی فروخت تقریباً تیرہ فیصد کی شرح سے بڑھی ہے۔ تجزیہ کار مراد علی بیگ کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہندوستان میں آٹو انڈسٹری میں تیزي سے ترقی کا یہ عمل جاری رہے گا۔ مسٹر بیگ کا کہنا ہے کہ ترقی کی سب سے بڑي وجہ سڑکوں اور شاہراہوں میں آنے والی بہتری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ملک کے بیشتر دیہات شاہراہوں سے جڑے ہوئے ہیں اورگاؤں کی سڑکیں بھی موٹرگاڑیاں چلانے کے لائق ہوگئی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ’ دیہی علاقوں میں بھی لوگ موٹرگاڑیاں خریدنے میں دلچسپی لے رہے ہیں‘۔ ملک میں ایک عام شہری کے لیئےگاڑی خریدنا مالی اعتبار سے اب بھی مشکل ہے۔ مسٹر بیگ کا کہنا ہے کہ’ہندوستان میں موٹرگاڑی پر کئی طرح کے محصولات اور ایکسائز ڈیوٹی نافذ ہے جس کی وجہ سے یہاں قیمتیں کافی زیادہ ہیں اور اکثر کاریں امریکہ ، یوروپ جاپان اور کوریا کے مقابلے یہاں مہنگے داموں بکتی ہیں‘۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کو بڑا بازار بننے سے قبل ملک کی سڑکوں، پانی اور توانائی کے نظاموں کو بہتر بنانے کے علاوہ قیمتوں میں کمی اور کاروں کی برآمدات میں اضافہ کے راستے ہموار کرنے ہوں گے۔ | اسی بارے میں انڈیا: اقتصادی ترقی کے نئے تقاضے 27 February, 2006 | انڈیا ہندوستان تیسری بڑی معیشت29 January, 2006 | انڈیا بھارت:ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری05 December, 2005 | انڈیا بھارت: ترقی کی شرح میں اضافہ30 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||