’تیل پر سرکار کی پالیسی مذاق ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دارلحکومت دلی میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ایک ریلی منعقد کی۔ مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور پارٹی کے بزرگ رہنما اٹل بہاری واجپائی نے حکومت کی اس پالسی کو مزاحیہ قرار دیا جس میں تیل کی قیمتوں کے بوجھ کو ریاستی حکومت کے ساتھ بانٹنے کی بات کہی گئی ہے۔ مسٹر واجپائی کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برسوں میں تیل کی قیمتوں میں صرف اضافہ ہوا ہے کبھی کمی نہیں آئی ہے اور سرکار کی نئی پالیسی صرف ایک مذاق بن کر ہی رہ جائے گی۔ مسٹر واجپائی نے اپنے خطاب میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیئے ایکسائز اور کسٹمز ڈیوٹی کم کر نے کا مشورہ دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت لوگوں کی بنیادی ضروریات نظر انداز کر رہی ہے اور مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی سےعام آدمی پریشان ہے۔ بی جے پی کی اس ریلی میں پارٹی کے تمام بڑے رہنماؤں کے علاوہ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس یعنی این ڈی اے کے کئی سینئر رہنماؤں نے شرکت کی۔ ان میں جنتا دل یونائٹڈ کے شرد یادو ، شیو سینا کے منوہر جوشی سمیت بی جے پی کے سابق صدر لال کرشن اڈوانی اور موجودہ صدر راج ناتھ سنگھ موجود تھے۔ مسٹر سنگھ نے اپنے خطاب میں مرکزی حکومت کو باہر سے حمایت دینے والے بائیں محاظ پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے ان پر دوہرا رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔ | اسی بارے میں واجپئی کی دھمکی، بھارتی کا احتجاج29 November, 2005 | انڈیا اڈوانی کا فون بھی ٹیپ ہوا: بی جے پی09 January, 2006 | انڈیا رام مندر کے لیئے اڈوانی کی اپیل06 April, 2006 | انڈیا بی جے پی یا بھارتیہ جنتا ’پرابلم‘ پارٹی18 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||