اڈوانی کا فون بھی ٹیپ ہوا: بی جے پی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں فون ٹیپنگ کا معاملہ مزید طول پکڑتا جارہا ہے اور حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بی جے پی بھی اس تنازعہ میں شامل ہو گئی ہے۔ بی جے پی نے کہا ہے کہ جب وولکر کمیٹی کی رپورٹ کا معاملہ سرگرم تھا اس دوران پارٹی کے صدر لال کرشن اڈوانی کا فون بھی ٹیپ کیا جا رہا تھا۔ پارٹی کے ترجمان پرکاش جاوڑیکر کا کہنا ہے کہ فون ٹیپنگ کی جانکاری ہمیں بہت پہلے مل چکی تھی یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے حکومت کو تمام سیاسی پارٹیوں کی ایک میٹنگ طلب کرنا چاہیئےاور جلد سے جلد فون ٹیپنگ کس طرح بند کی جائے اس پر غور کرنا چاہیئے۔ کانگریس نے ان سبھی الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ کانگریس کی ترجمان جینتی نٹراجن کا کہنا ہے کہ ’بی جے پی اب پوری طرح دیوالیہ ہو چکی ہے اگر انہیں اس بات کا پتہ تھا کہ وولکر کمیٹی کی رپوٹ سمانے آنے کے دوران انکے فون ٹیپ ہو رہے ہيں تو انہوں نے اسی وقت کیوں نہیں بتایا۔ گزشتہ برس 30 دسمبر کو سماجوادی پارٹی کے رہنما امر سنگھ نے مرکزی حکوت پر الزام عائد کیا تھا کہ انکا فون ٹیپ کیا جارہا ہے۔ اسی طرح تمل ناڈو کی وزیر اعلی جے لیتا اور اور آندھرا پردیش کی سابق وزیر اعلی چندر بابو نائڈو نے بھی فون ٹیپ ہونے کی بات کہی تھی۔ امر سنگھ نے انصاف کے لئے عدالت عظمی کا رخ کیا ہے ۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ سب جگہ سے ہارنے کے بعد ہی میں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے ۔ مسٹر سنگھ کی جماعت سماجوادی پارٹی مرکز ی حکومت یو پی اے یعنی یونائڈ پرگرسو الائنس کو باہر سے حمایت کر رہی ہے ۔ اپنے بیان میں مسٹر سنگھ نے صاف کر دیا کہ انکی پارٹی اس معاملے کے سبب مرکز سے اپنی حمایت واپس نہیں لے رہی ہے۔ فون ٹیپنگ مامعلے میں دلی پولیس نے اب تک تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار کئے گئے لوگوں میں ایک خفیہ ایجنسی کا اجنٹ سمیت نجی ٹیلی فون کمپنی کا ایک ملازم شامل ہے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||