BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 June, 2006, 14:34 GMT 19:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گجرات کے سنیما مالکان خوفزدہ ہیں‘

عامر خان
’ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم کس طرح کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں‘
بالی وڈ اداکار عامر خان نے کہا ہے کہ ریاست گجرات میں فلم ’فنا‘ کی نمائش کی جانی چاہیئے۔

ایک اخباری کانفرنس میں عامر خان کا کہنا تھا کہ’وہاں بی جے پی کے یووا ورکرز جو فلم کے خلاف مظاہرے کرتے آئے ہیں، انہیں اب سوچنا چاہیئے کہ وہ دستور اور جمہوریت کی عزت کرتے ہیں یا نہیں‘۔

فلمساز مہیش بھٹ کی جانب سے گجرات میں فلم فنا کی نمائش کرانے کے لیئے داخل عرضداشت پر پیر کے روز ہندوستان کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ گجرات میں حکومت یا کسی ادارے نے فلم کی نمائش پر پابندی نہیں عائد کی ہے اور اگر کوئی سنیما مالک اپنے تھیٹر میں فلم دکھانا چاہتا ہے تو وہ مقامی پولیس سے تحفظ حاصل کر سکتا ہے۔

اداکار عامر خان نے اخباری کانفرنس میں ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کیا کہ نرمدا بچاؤ آندولن کی حمایت میں انہوں نے جو کچھ کہا تھا وہ اسی پر اٹل ہیں۔ عامر نے کہا کہ’گجرات میں نظم و نسق کی صورت حال بگڑی ہوئی ہے کیونکہ ڈیڑھ ماہ پہلے بی جے پی اور کانگریس کے ورکروں نے مل کر ان کی فلم ’رنگ دے بسنتی‘ کے پوسٹرز جلائے اور ہنگامے کیئے۔ پورے ملک نے انہیں دیکھا لیکن تب بھی وہاں کی ریاستی مشینری حرکت میں نہیں آئی اور انہوں نے تھیئٹر مالکان کو تحفظ فراہم نہیں کیا شاید اسی ڈر سے اب سپریم کورٹ کا حکم ملنے کے بعد بھی تھیٹر مالکان فلم دکھانے کے لیئے راضی نہیں ہیں اور وہ خوفزدہ ہیں‘۔

گجرات میں عامر خان کے پوسٹر جلائے گئے

عامر نے کہا کہ’یہ آزاد ملک ہے اور یہاں ہر شہری کو دستور کی عزت کرنی چاہیئے اور ڈر کر چپ رہنے کے بجائے لڑنا چاہیئے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم کس طرح کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں‘۔انہوں نے اپنی فلم رنگ دے بسنتی کا مکالمہ دہرایا کہ’یا تو جو کچھ ہو رہا ہے اسے چپ چاپ سہتے رہو یا پھر قدم اٹھاؤ‘۔

معافی مانگنے کی بات پر ایک بات پھر عامر نے کہا کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ’میں معافی کیوں مانگوں۔ جو مجھ سے یہ کہتے ہیں وہ سپریم کورٹ سے بھی کیا معافی طلب کریں گے ؟ کیونکہ انہوں نے تو وہی کہا جو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ غریب بے گھر لوگوں کی بازآبادکاری کی جائے۔

عامر نے کہا کہ’میں گجرات کے عوام سے محبت کرتا ہوں آپ میری آنکھوں میں جھانک کر دیکھیں۔ میں اپنے بہنوئی مہندر جوشی کے ساتھ ڈیڑھ برس تک گجرات میں رہ چکا ہوں۔ وہاں کے لوگوں کے لیئے کام کیا ہے۔گجراتی میرے دل کے قریب ہیں اور پھرگجرات کے عوام بھی میرے ساتھ ہیں۔ وہ فلم فنا دیکھنے کے لیئے ممبئی اور پونا جا رہے ہیں۔ بڑے پیمانے پر وہاں جعلی سی ڈی پر فلم فنا دیکھی جا چکی ہے اور اب شاید تھیٹر میں لگے تو لوگ دیکھنے بھی نہ آئیں‘۔

عامر نے اس پورے معاملے کو صرف ایک سیاسی جماعت کا پروپیگنڈہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ’مجھے نہیں پتہ کہ ان کے دل میں کیا ہے ۔وہاں کی عوام کو سوچنا ہے کہ وہ کب تک اس طرح ڈر ڈر کر جیئں گے یہ وہاں کے تھیئٹرز اونرز ایسوسی ایشن کو سوچنا ہے کہ وہ کب تک اور کیوں ڈرتے رہیں جبکہ ملک کا قانون ان کی حفاظت کے لیئے ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد