BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 June, 2006, 04:17 GMT 09:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ناگپور: تین ’شدت پسند‘ ہلاک

 حملہ آوروں کی کار
حملہ آوروں کی کار پر پولیس کی گولیوں کے نشانات نمایاں ہیں
انڈیا کی ریاست مہاراشٹر میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک مقابلے میں تین شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

ناگپور شہر کے پولیس کمشنر شیو پرتاپ سنگھ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ یہ تین شدت پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ کے ہیڈ کواٹر پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔

ناگپور پولیس کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسندوں دستی بموں اور بندوقوں سے مسلح تھے۔ پولیس نے شدت پسندوں کے قبضے سے تیرہ دستی بم ، جدید ترین اے کے ایم رائفل اور کافی تعداد میں میگزین بھی برآمد کیئے ہیں ۔

مقامی پولیس کے سربراہ ایس ڈی یادو کا کہنا ہے کہ’مارے گئے دہشت گردوں کی عمر اندازے کے مطابق پچیس اور چھبیس سال کے درمیان ہو سکتی ہے اور وہ کشمیری لگتے ہیں لیکن وہ کس تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ابھی اس کا پتہ نہیں چل سکا ہے اور نہ ہی ابھی تک کسی تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس ابھی تفتیش کر رہی ہے اور انہیں شبہ ہے کہ شدت پسند پٹنہ کے راستہ ناگپور میں داخل ہوئے تھے۔

ایس ڈی یادو نے بتایا کہ تینوں حملہ آور پولیس کی وردیوں میں ملبوس تھے جبکہ مقامی نیوز چینلوں کے مطابق یہ افراد ایک کار میں آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر تک پہنچے اور عمارت کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کی پوچھ گچھ پر انہوں نے فائرنگ بھی کی۔

 راشٹریہ سیوک سنگھ انڈیا کی قدیم ترین ہندو قوم پرست جماعت ہے اور اس کے اندازاً تیرہ لاکھ اراکین ہیں۔ اس جماعت تشکیل سنہ 1925 میں ناگپور میں ہی ہوئی تھی اور اس کا بنیادی مقصد انڈیا کو ایک ہندو ملک بنانا تھا۔ آج بھی اس جماعت کے ناقدین دیگر اقلیتی مذاہب کے حوالے سے اس جماعت کی سخت گیر پالیسیوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔

اس واقعہ کے بعد ریاست بھر میں آر ایس ایس کے تمام دفاتر پر سکیورٹی انتظامات سخت کر دیئے گئے ہیں۔

مہاراشٹر کے وزیرِاعلٰی ولاس راؤ دیش مکھ نے ناگپور پولس کی اس بروقت کارروائی پر انہیں مبارکباد پیش کی ہے اور حکومت کے جانب سے پولیس عملے کو پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی تفتیشی ایجنسیاں مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر ریاست میں تیزی سے پھیل رہی عسکری سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بی جے پی کے لیڈر لال کرشن ایڈوانی نے حملے کی اس کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اب مرکزی حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف نرم رویہ اپنانے کی کوششوں کو بند کر دینا چاہیئے۔

راشٹریہ سیوک سنگھ انڈیا کی قدیم ترین ہندو قوم پرست جماعت ہے اور اس کے اندازاً تیرہ لاکھ اراکین ہیں۔ اس جماعت تشکیل سنہ 1925 میں ناگپور میں ہی ہوئی تھی اور اس کا بنیادی مقصد انڈیا کو ایک ہندو ملک بنانا تھا۔ آج بھی اس جماعت کے ناقدین دیگر اقلیتی مذاہب کے حوالے سے اس جماعت کی سخت گیر پالیسیوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد