علیگڑھ:ہندو رہنما قتل، کرفیو نافذ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں ایک ہندو رہنما کے قتل کے بعد کشیدگی پھیل گئی ہے۔ شہر میں تشدد کے واقعات میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور نو افراد زخمی ہوئے ہيں اور مقامی انتظامیہ نے فسادات کے بعد شہر کے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ شہر میں کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب اتوار کے روز بعض نامعلوم افراد نے ایک ہندو تاجر کو گولی مار دی۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں نے او پی گپتا نامی ایک مقامی تاجر پر ان کی دکان پر فائرنگ کی اور انہیں زخمی کر دیا۔ او پی گپتا بعد ازاں ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی رہنما بھی تھے۔ اس واقعہ کے بعد شہر میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل گئی۔ حکام کا کہنا ہے کا حالات پر قابو پا لیا گیا ہے لیکن شہر کے پرانے علاقے میں غیر معینہ مدت کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ علی گڑھ فرقہ وارانہ اعتبار سے کافی حساس شہر تصور کیا جاتا ہے اور ماضی میں بھی علی گڑھ میں کئی مرتبہ ہندو مسلم فساد ہو چکے ہیں۔ گزشتہ اپریل میں ہی ہندوؤں کے ایک تہوار ’رام نومی‘ کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگئی تھی جس میں پولیس کی فائرنگ میں چار افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔ یاد رہے کہ مقتول بی جے پی رہنما مسٹر گپتا کا نام گزشتہ اپریل کے ان فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں بھی لیا جاتا رہا ہے۔ | اسی بارے میں علیگڑھ: چار ہلاک، یوپی میں ریڈالرٹ 06 April, 2006 | انڈیا علیگڑھ میں مذہبی کشیدگی 06 April, 2006 | انڈیا علیگڑھ میں مذہبی کشیدگی، دو ہلاک06 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||