تعمیر اور آبادکاری ایک ساتھ:عدالت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی سپریم کورٹ نے سردار سروور ڈیم کی تعمیر جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم عدالت نے حکم دیا ہے کہ ڈیم کی تعمیر اور متاثرہ افراد کی آباد کاری کا کام ساتھ ساتھ جاری رکھا جائے۔ مرکزی حکومت نے عدالت میں ایک بیان حلفی میں کہا تھا کہ وہ ڈیم کی تعمیر جاری رکھنا چاہتی ہے اور حکومت نے تجویز بھی پیش کی تھی کہ وہ متاثرہ افراد کو بسانے کے لیئے ایک جامع طریقہ اختیار کر کے ایک کمیٹی تشکیل دینا چاہتی ہے۔ مرکزی حکومت نے عدالت کو اس بات کا یقین دلایا کہ اس برس اگست کے مہینے تک آباد کاری کا کام پورا کر دیا جائے گا اور اگر اس وقت تک آباد کاری کے لیئے مستقل انتظات نہيں کیئے جا سکے تو متاثرہ افراد کے لیئے عارضی طور انتظامات کیئے جائيں گے اور مستقل رہائش کے لیئے کام جاری رہے گا۔ مرکزی حکومت کی دلیل سننے کے بعد عدالت نےکہا کہ بڑے پیمانے کے پروجیکٹس میں، جس میں ایک بڑی تعداد میں لوگ متاثرہوتے ہیں، ایک صحیح توازن بنائے رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ’اس معاملے کو جذباتی اور کشیدہ ماحول میں دیکھنے کے بجائے اسے ٹھنڈے دماغ سے حل کرنا چاہیئے‘۔ نرمدا بچاؤ تحریک ڈیم کی اونچائی 110 میٹر سے 112 میٹر بڑھائے جانے کے مخالفت کر رہی ہے اور اس تحریک کی جانب سے ہی ڈیم کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کی گئی تھی۔ تحریک کے کار کنان کا کہنا ہے کہ ڈیم کی اونچائی بڑھانے سے تقریباً تین ہزار خاندان متاثر ہوں گے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ’ سب لوگوں کو ایک ساتھ مطمئن نہيں کیا جا سکتا لیکن متاثرین کی آبادکاری کا کام صحیح طریقہ سے ہونا چاہیئے اور اس عمل میں دانشمندی اور سوجھ بوجھ سے کام لینے کی ضرورت ہے‘۔
ڈیم کی اونچائی بڑھانے کے خلاف سماجی کارکن میدھا پاٹکر گزشتہ دو ہفتوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں تاہم عدالت کے اس فیصلے سے نرمدا بچاؤ تحریک کے کارکنوں پر کافی مایوسی چھا گئی ہے۔ دوسری جانب گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے کہا ہے کہ شام سات بجے وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔ اتوار کی دوپہر دو بجے سے نریندر مودی نے سردار سروور ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف احتجاجاً اکیاون گھنٹوں کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ بجلی کی پیداوار کے لیے سردار سروور ڈیم کی تعمیر کا کام 1987 میں شروع ہوا تھا اور اب تک اس منصوبے پر تقریباً تیرہ ارب روپے خرچ کیئے جا چکے ہیں۔ تاہم ڈیم کی تعمیر سے متاثر ہونے والے افراد کی آبادکاری ابھی تک پورا نہیں ہو سکا ہے اور متعدد افراد حکومت کے اقدامات کے منتظر ہيں۔ | اسی بارے میں نرمدا: مودی کی جوابی بھوک ہڑتال16 April, 2006 | انڈیا نرمدا ڈیم معاملہ وزیراعظم کے سپرد 15 April, 2006 | انڈیا بھوک ہڑتالی رہنما کی حالت مستحکم06 April, 2006 | انڈیا ڈیم احتجاج: میدھا کی حالت خراب 04 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||