’برڈ فلوکی رپورٹ عام کی جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ضلع نندوربار کے نواپور ہسپتال میں بارہ ایسے مریض داخل ہیں جن کے بارے میں ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا ہے آیا یہ برڈ فلو کے مریض ہیں یا نہیں۔ اس سلسلے میں بھوپال لیبارٹری کی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اب انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے والے ایک ایڈوکیٹ نرمل سوریہ ونشی نے ضلع نندوربار کے کلکٹر جینت گائیکواڑ کو قانونی نوٹس بھیجا ہے جس میں انہوں نے بھوپال رپورٹ کو فوراً عوام کے سامنے کرنے کامطالبہ کیا ہے۔ سوریہ ونشی نے حکومت کے برڈ فلو کے اعلان پر شک و شبہ کا اظہار کیا ہے ان کا دعوی ہے کہ پونے اور یوپی کی لیبارٹری نے مرغیوں کی جانچ کی اور اس امر کی تصدیق کی کہ وہ برڈ فلو کی بیماری سے نہیں مری ہیں۔ سوریہ ونشی نے بی بی کو بتایا کہ انہیں حیرت ہے کہ اکیلے بھوپال لیبارٹری کی رپورٹ پر کس طرح حکومت نے بھروسہ کیا۔ ان کا دعوی ہے کہ بھوپال لیبارٹری کی رپورٹ کنفیوزنگ ہے کیونکہ انہیں جو اطلاع ملی ہے کہ بھوپال لیبارٹری کو مرغیوں کا خون کا نمونہ نہیں دیا گیا تھا بلکہ ان کے پاس مردہ مرغیوں کے ٹشو(خلیات ) جانچ کے لیے بھیجے گئے تھے جس کی تصدیق یا کسی نتیجہ پر پہنچنے میں کم سے کم ایک ہفتہ کا وقت لگنا چاہئے تھا لیکن اس کے بجائے دو روز میں رپورٹ سامنے آگئی۔ ایڈووکیٹ سوریہ ونشی کا کہنا ہے کہ انہوں نے انفارمیشن ایکٹ کے تحت کلکٹر سے جواب طلب کیا۔ ہسپتال میں داخل مریض اطلاعات کے مطابق ہسپتال میں داخل مریضوں میں تین مریض جن میں دو مرد اور ایک عورت شامل ہے، اس شخص کے رشتہ دار ہیں جس کی موت واقع ہو چکی ہے۔ ان افراد کو سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ ان کے خون کے نمونے بھوپال بھیج دیے گئے ہیں اور ان کی جانچ کی رپورٹ کے بارے میں معلومات کا انتظار ہے۔ ہسپتال کے انچارج نے اس بات سے انکار کیا کہ ان مریضوں میں سے کسی کو بھی برڈ فلو ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو خبریں پھیلی ہیں اس کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان تک کسی طرح کی کوئی رپورٹ نہیں آئی ہے اور اس وقت مریضوں کی دیکھ بھال کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پولٹری ایسوسی ایشن کی تشویش پولٹری فارم اونرز ایسو سی ایشن کے ممبر غلام بھائی نے نوا پور نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھ دیگر ممبران اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ ان کے یہاں مرغیوں میں یہ بیماری پھیلی ہے۔ حکومت نے جلدی میں فیصلہ دیا ہے جس کی وجہ سے ان کی صنعت بری طرح تباہ ہوئی ہے اور شاید چھ ماہ تک وہ سنبھل نہیں سکیں گے۔ نوا پور سے اندور سورت بلساڑ اور واپی مرغیاں اور انڈے سپلائی ہوتے ہیں لیکن اب مدھیہ پردیش اور گجرات دونوں جگہ سے ان کے یہاں کا مال لینے پر پابندی عائد ہو چکی ہے۔ |
اسی بارے میں بھارت: مسافروں کے لیے چکن بند21 February, 2006 | انڈیا ہریانہ: ’یہ برڈ فلو نہیں ہے‘22 February, 2006 | انڈیا برڈ فلو کے 7 مزید مریض؟ 21 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||