امبانی برادرز کے درمیان تلخی ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے دو انتہائی طاقتور کاروباری بھائیوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری تلخی کا خاتمہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ انیل امبانی نے بالاًخر ریلائنس انڈسٹریز کی چار الگ کی جانے والی کمپنیوں کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ ریلائسن انڈسٹریز کا کنٹرول انیل اور ان کے بھائی مکیش امبانی کے ہاتھوں میں ہے۔ دونوں بھائی گزشتہ برس اس بات پر تیار ہوگئے ہیں کہ وہ ریلائسن کو توڑ دیں جو بھارت کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ دونوں بھائیوں میں اس معاملے پر گزشتہ سات ماہ سے تنازعہ جاری تھا۔ گزشتہ ہفتے بھی دونوں بھائیوں میں کمپنی کی تقسیم کے معاملے پر نزع جاری تھی۔ انیل امبانی نے الزام لگایا تھا کہ ان کے بڑے بھائی مکیش امبانی نے چار کمپنیوں کی منتقلی میں جان بوجھ کر تاخیر کی ہے۔ یہ چاروں کمپنیاں بھارت میں سٹاک ایکسچینج کی فہرست میں علحیدہ علیحدہ درج کی جائیں گی۔ تاہم منگل کو یہ بات سامنے آئی کہ اس حوالے سے تمام تفصیلات ایک بورڈ میں طے ہو چکی ہیں۔ دونوں بھائیوں میں سے کوئی بھی بورڈ کی اس میٹنگ میں شریک نہیں ہوا۔ ریلائسن کے ایک ڈائریکٹر نے بتایا کہ حصص کی منتقلی، کنٹرول اور ملکیت سے متعلق تمام مسائل حل ہوگئے ہیں۔ علیحدگی کی شرائط کے تحت، مکیش امبانی کے ہاتھ میں تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل کے کاروبار کا کنٹرول ہوگا جبکہ انیل امبانی ٹیلی کام، بجلی اور گروپ کے فنانس پر کنٹرول کریں گے۔ ریلائسن گروپ آج سے پینتالیس برس قبل وجود میں آیا تھا اور اس کی بنیاد بھارت کے مشہور ترین کاروباری شخص دھیروبھائی امبانی نے رکھی تھی۔ چار سال قبل دھیروبھائی کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں میں اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ | اسی بارے میں رلائنس ڈیل سے شیئرز میں اضافہ 21 June, 2005 | انڈیا رِلائنس گروپ کی تقسیم پر معاہدہ18 June, 2005 | انڈیا امبانی برادران میں مزید تلخی27 December, 2004 | انڈیا بھائیوں کے جھگڑے سے مارکیٹ ڈاؤن25 November, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||