امبانی برادران میں مزید تلخی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ ریلائنس کے دو مالکان بھائیوں کے درمیان تنازعہ بظاہر شدت اختیار کر گیا کیونکہ ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کے وائس چیئرمین انیل امبانی نے، جو بھائیوں میں چھوٹے ہیں، بورڈ کے اس بڑے فیصلے پر عمل نہیں کیا جس میں کمپنی کے دس فیصد شیئر دوبارہ واپس خریدنے کی بات کی گئی ہے۔ بورڈ نے انیل امبانی کے اعتراض کو نظرانداز کرتے ہوئے شیئر واپس خریدنے کی تجویز کی منظوری دے دی تھی۔ ریلائنس گروپ اڑسٹھ کروڑ ڈالر کے عوض کمپنی کے شیئر دوبارہ خرید سکے گا۔ اس واقعہ کے بعد انیل امبانی نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شیئر واپس خریدنے کا اعلان کرنے سے پہلے ان سے مشورہ نہیں کیا گیا تھا۔ بھارت کے کارپوریٹ سیکٹر اور ذرائع ابلاغ کو ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کی بورڈ میٹنگ کا شدت سے انتظار تھا۔ گزشتہ ماہ گروپ کا کنٹرول سنبھالنے کے معاملے پر منظرِعام پر آنے والے تنازعہ کے بعد دونوں بھائیوں کے درمیان پہلی بار کسی رسمی میٹنگ میں آمنا سامنا ہوا۔ انیل امبانی شیئر واپس خریدنے کی تجویز کی مخالفت کرنے کی تیاری کیے ہوئے تھے اور ان کا اعتراض تھا اس تجویز کے اعلان سے پہلے ان سے مشورہ نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم بورڈ نے اس اعتراض کو نظرانداز کرتے ہوئے شیئر واپس خریدنے کی تجویز کی منظوری دے دی۔ پیر کو ہونے والی بورڈ کی اس میٹنگ سے پہلے انیل امبانی نے ذرائع ابلاغ سے کہا کہ وہ ’ گزشتہ چند ہفتے سے جاری سرگرمیوں پر بہت رنجیدہ ہیں۔‘ ان کی رائے میں شیئر واپس خریدنے کی تجویز پر بورڈ میں بحث کرنا مناسب نہیں تھا۔ ان کے خیال میں بورڈ کو دیگر اہم امور پر غور کرنا چاہیے تھا۔ انیل امبانی نے اس شبہے کا بھی اظہار کیا کہ یہ تجویز کسی پوشیدہ مفاد کے حصول کے لیے پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلائنس گروپ ان کے والد دھیرو بھائی امبانی کی محنت کا ثمر ہے اور وہ اس کی حفاظت کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||