بھارت چلو‘ مغربی ماہرین کا نعرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہر بھارتی پیشہ ور اچھی ملازمتوں اور بہتر معیار زندگی کی تلاش میں برس ہا برس سے مغربی ممالک کا رخ کرتے رہے ہیں لیکن اب ایسے ہی پیشہ ور افراد مغرب سے مشرق کی طرف آنے لگے ہیں۔ بھارت کی چند بڑی کمپنیوں نے اپنے اعلیٰ عہدوں کے لئے امریکہ اور یورپ سے ماہرین کو بھرتی کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً بیس ہزار غیر ملکی بھارت میں بڑی بڑی کمپنیوں میں ملازمتیں کر رہے ہیں۔ سویڈن سے آئے ہوئے لارز لنڈکوئسٹ ریاست گجرات میں رلائنس گروپ کی ایک ریفائنری کا نظم و نسق سنبھالتے ہیں۔
پانچ برس قبل جب وہ بھارت آئے تو وہ ان چند مغربی باشندوں میں سے تھے جنہیں بھارتی کمپنیوں میں ملازمت دی گئی تھی۔ ہندوستان آنے سے پہلے لارز لنڈکوئسٹ متعدد ترقی یافتہ ممالک میں کام کر چکے تھے لیکن اس کے باوجود وہ ابتداً بھارت آنے سے کترا رہے تھے۔ ریلائنس نے لارز لنڈکوئسٹ کو ریفائنری کی سیفٹی کے ماہر کی حیثیت سے اپنے ساتھ شامل کیا ہے۔ لارز لنڈکوئسٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ریلائنس ریفائنری میں بھی مغربی معیار کے سیفٹی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ ریلائنس نے لارز لنڈکوئسٹ سمیت دو سو مغربی ماہرین کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا ہے تاکہ وہ تمام ہنر حاصل کئے جا سکیں جہنیں بھارت کو سیکھنے کی ابھی ضرورت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||