| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کپڑے کا بے لباس تاجر
وہ کپڑے کے ایک دو نہیں کئی کامیاب کارخانوں کا مالک ہے مگر خود کپڑے شاذ و نادر ہی پہنتا ہے۔ وہ ہے تو ایک ایسا کامیاب تاجر جس نے کئی ہزار افراد کو اپنے کارخانوں میں ملازم رکھا ہوا ہے مگر وہ خود ایک ہندو جوگی ہے۔ ایک تارک الدنیا، جس نے اس مادی دنیا کو ترک کر رکھا ہے۔ اگرچہ یہ سب کچھ ناقابل یقین سا لگتا ہے لیکن بھارت میں مقیم ایک فرانسیسی تاجر نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ سب کچھ ہوبھی سکتا ہے۔ یہ عجیب شخص کرسچن فیبرے یا اب نئے نام سے سوامی پرانہ ونندا برہیمندرا اوادھوتہ، انیس سو بیالیس میں فرانس میں پیدا ہوا مگر کئی برس گزرے کے ہندو سادھو بن چکا ہے۔ اب وہ بھارت کی جنوب مغربی ریاست تامل ناڈو میں دارالحکومت مدراس سے تقریباً چار سو کلو میٹر کے فاصلے پر اپنی ایک خانقاہ (آشرم) چلاتا ہے۔ لیکن یہ تو محض نصف حقیقت ہے، فیبرے جنوبی بھارت میں کپڑے کے کئی کارخانوں کا بھی مالک ہے۔ لیکن فیبرے کو محض ایک تارک الدنیا سنیاسی ہندو جوگی کی حیثیت سے جاننے والوں کے لئے بطور ایک کامیاب ترین تاجر اس حیثیت بہت ہی اچھنبے کی بات ہے۔ لیکن خود فیبرے کے لئے اپنی متوازی تجارتی دلچسپیاں اچھنبے کی بجائے اس کے عقیدے کا ہی ایک اضافی حصہ ہے۔ فرانس میں اس کی پرورش ایک ایسے خاندان میں ہوئی جو کپڑے کی صنعت سے وابستہ تھا۔ وہ انیس سو ستّر کی دہائی میں کام ہی کی غرض سے بھارت آیا تھا مگر اس جگہ کے سحر کا اسیر ہی ہو کر رہ گیا۔
وہ کہتا ہے ’بھارتی ثقافت، عقائد، لوگوں کی زندگی میں اتنی زیادہ کشش تھی کہ میں تو فرانس واپس جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔‘ فیبرے اور اس کا خاندان بھارت منتقل ہوگیا۔ اگرچہ ان کی نئی زندگی کا آغاز ایک اچھے انداز سے ہوا تاہم جلد ہی انہیں مسائل و مشکلات نے آ گھیرا یہاں تک کہ ایک روز ان کی تمام دولت و نقدی مال و متاع سب ختم ہوگیا۔ پیسے کی اس محتاجی کو بہت زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ اس کی بیوی اور بیٹا اسے چھوڑ کر فرانس واپس چلے گئے۔ اب کبھی کبھار فیبرے ہاتھوں میں سگریٹ تھامے ان دنوں کو یاد کرتا ہے جب اس نے سارا مال و متاع اور خاندان تک کھو دیا تھا وہ حیران ہوتا ہے کہ آخر یہ سب کچھ اس کے ساتھ ہی کیوں ہوا۔ جب یہ سب کچھ ہورہا تھا تو فیبرے ایک ہندو برہمن خاندان کے پڑوس میں رہائش پذیر تھا۔ اسی ہندو برہمن گھرانے نے فیبرے کو سب سے پہلے ہندوتوا سے روشناس کرایا۔ اسی خاندان کی ایک عورت نے فیبرے کو ایک ہندو سوامی یا سنیاسی سے متعارف کرایا۔ اب بھی اکثر فیبرے سوچتا ہے کہ جب وہ اس ہندو سوامی سے ملنے جارہا تھا تو راستے میں اسے ایک ایسا شخص ملا تھا جو کوڑھ (جذام) میں مبتلا تھا۔ فیبرے کو یاد ہے کہ اپنی بیماری کے باعث بھی وہ اجنبی بہت زیادہ پرامید تھا۔ اسے یہ بھی یاد ہے کہ اس نے اس اجنبی شخص کو دیکھ کر خود سے سوال کیا تھا کہ ’اگر یہ شخص پرامید اور خوش ہوسکتا ہے تو پھر میں کیوں نہیں ہوسکتا؟‘ بس ، بالکل تب ہی اس نے خود میں ایک نئی روح ایک نئی امید ایک انقلاب ایک نیا پن، نئی طاقت نیا ادراک محسوس کیا۔ اس نے کچھ سلائی مشینیں خریدیں اور فرانس میں سلے سلائے کپڑوں کے ایک بڑے کارخانے سے کچھ کام حاصل کرلینے میں کامیاب ہوگیا۔ رفتہ رفتہ اس کے کام کو دوام حاصل ہونا شروع ہوا اور آج اس کا ادارہ ’فیشن انٹرنیشنل‘ پینتیس کارخانوں کا مالک ہے جن میں ساٹھ ہزار افراد ملازم ہیں۔ ان کارخانوں میں بننے والے ملبوسات یورپ بھر کو برآمد کئے جانے جاتے ہیں۔ گزشتہ برس اس کے ادارے نے تیس ہزار ملبوسات برآمد کئے اور سینتیس لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا۔ کاروبار کی اسی کامیابی نے فیبرے کے عقائد کو کو مضبوط تر کردیا اور اس نے اپنے ’گرو‘ کی تعلیمات تو جاری رکھی ہی تھیں مگر اب تو اس کو اپنے چند سوالوں کے جواب کی بھی تلاش تھی۔ بالآخر ایک روز گرو نے اس کو سنیاس لے لینے کی دعوت دے ہی ڈالی۔ سنیاس میں تو دنیا ہی کو ترک کردیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ دنیا کی تمام اشیا رشتوں، عقائد اور دیگر چیزوں کو بھی جن میں دولت اور خاندان بھی شامل ہوتے ہیں۔ فیبرے کہتا ہے ’لیکن میرے گرو نے مجھ سے قسم اٹھوائی کہ میں گیان حاصل کرنے کے لئے اپنے کاروبار کو ترک نہیں کروں گا۔‘
اب فیبرے اپنے عقیدے کے مطابق آشرم میں رہتا ہے دیگر سادھوؤں کے ہمراہ بالکل ان ہی کی طرح عقیدے کے مطابق برہنہ۔ جب وہ آشرم سے باہر جاتا ہے تو وہ ہندو سادھوؤں جیسا لباس پہن لیتا ہے۔ اور اسی حالت میں اپنی کاروباری مصروفیات بھی نمٹاتا ہے۔ اس کے خیال میں اس کی ہندو سادھو کی زندگی اور کاروباری زندگی میں کوئی اختلاف نہیں۔ مجھے اب دولت کی قطعاً پرواہ نہیں ہوتی۔ نہ ہی میں اپنے کارخانے سے دولت حاصل کرتا ہوں میں تو ساری دولت کارخانے کے ملازمین میں بانٹ دیتا ہوں۔ اپنا منافع بھی ان ہی بانٹ دیتا ہوں۔ اس کی ذات سے فیض حاصل کرنے والوں میں صرف اس کے ملازمین ہی شامل نہیں ہیں بلکہ اس کے کارخانوں کے آس پاس رہائش پذیر افراد کو پانی وغیرہ کی زیادہ بہتر سہولیات بھی حاصل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |