گولڈن ٹیمپل کے پاس گرنیڈ برآمد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی بھارت کے شہر امرتسر میں گولڈن ٹیمپل کے قریب ایک سو چودہ سے زائد گرنیڈ برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق گردوارے کے زائرین میں سے ایک شخص کو یہ گرنیڈ نظر آئے اور اس نے پولیس کو اطلاع دی۔ حکام کا خیال ہے کہ یہ گرنیڈ نقصان دہ نہیں ہو سکتے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گرنیڈ زنگ آلودہ ہیں اور خیال ہے کہ یہ 1984 کے حملے کے بعد یہاں رہ گئے تھے۔ یاد رہے کہ بھارت میں 1984 میں متنازعہ ’آپریشن بلیوسٹار‘ شدت پسند سکھ علیحدگی پسندوں کا صفایا کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ یہ جگہ سکھوں کا مقدس ترین مذہبی مقام ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں گرنیڈ برآمد ہونے کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے لیکن حکام اس واقعے کی اہمیت کو کم کر کے دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ زیادہ سنجیدہ معاملہ نہیں ہے کیونکہ سارے گرنیڈ پرانے اور ناقابل استعمال ہیں‘۔ گولڈن ٹیمپل پر حکومت کی اس کارروائی کو سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے مذہبی مقام کی بے حرمتی کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ بعد میں اس واقعے کے نتیجے میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے جس کے بعد سکھ مخالف فسادات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا جس میں تقریباً تین ہزار سکھ ہلاک ہو گئے۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||