3 شدت پسندوں کی گرفتاری کا دعوٰی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی پولیس نے اکتوبر میں حیدرآباد میں ہونے والے بم دھماکے میں ملوث تین شدت پسندوں کوگرفتار کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ تین شدت پسندوں میں سے دو کا تعلق بنگلہ دیش کی حرکت الجہاد نامی شدت پسند تنظیم سے ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان شدت پسندوں کو ہندوستان کے مختلف مقامات سے گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم پولیس نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ ان لوگوں کا تعلق 29 اکتوبر کو دلی میں ہونے والے بم دھماکوں سے ہے۔ دلی پولیس کی خصوصی سیل کے جوائنٹ کمشنر کرنیل سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ’ گرفتار کیے جانے والے تین شدت پسندوں ميں سے نفیفل کا تعلق مغربی بنگال سے ہے جبکہ ہلال بنگلادیش سے تعلق رکھتا ہے اور تیسرا فرد حیدرآباد سے تعلق رکھنے والا ابراہیم ہے‘۔ پولیس کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ اس برس بارہ اکتوبر کو حیدرآباد میں ہونے والے بم دھماکوں میں نفیفل اور ہلال کا ہاتھ تھا جبکہ ابراہیم کو شدت پسندوں کی تنظیم سے رابطہ رکھنے کی وجہ سےگرفتار کیا گیا ہے۔ کرنیل سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ’ ابراہیم نامی شدت پسند کو سب سے پہلے بنگلہ دیش بھیجا گیا تھا جہاں اس نے حرکت الجہاد نامی شدت پسند تنظیم میں کافی وقت گزارا تھا۔ بعد ازاں اس کو کراچی بھیج دیا گیا اور اس کے بعد ابراہیم کو بلوچستان کے نزدیک ایک کیمپ میں تربیت ملی تھی‘۔ محکمہ پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ ان لوگوں کو اسلحہ چلانے اور بم دھماکے کرنے کے لیے خصوصی ٹریننگ دی گئی تھی۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ٹریننگ کے بعد انہیں ہندوستان کے پرہجوم مقامات پر کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ حیدرآباد میں اس برس 12 اکتوبر کو خصوصی ٹاسک فورس کے دفتر کے نزدیک ایک بم دھماکہ ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق اس واقعہ میں موتا سنگھ نامی ایک پولیس اہلکار مارا گیا تھا۔ | اسی بارے میں حیدر آباد دھماکہ: ملزمان کا ریمانڈ19 December, 2005 | انڈیا دلّی پولیس کو اہم سراغ ملے ہیں31 October, 2005 | انڈیا آندھرا میں دھماکہ، بیس زخمی09 August, 2005 | انڈیا بہار پولیس حلیہ درست کرے: نتیش 22 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||