سرحد سے دفاعی تعمیرات ہٹیں گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان نے کہا ہے کہ سرحد پر سکیورٹی سے متعلق ہونے والی ان کی سہ روزہ بات چیت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ پنجاب کے شہر چنڈی گڑھ میں بھارتی اور پاکستانی سرحدی گارڈز پہلی بار عالمی سرحد کے قریب بنائے گئے بعض دفاعی تعمیرات ہٹانے پر غور کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ مذاکرات کے دوران بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل (ویسٹرن فرنٹیئر) این پی ایس اولاکھ اور پاکستانی رینجرز کے سربراہ میجر جنرل جاوید ضیاء نے اپنے وفود کی سربراہی کی۔ مذاکرات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اولاکھ نے کہا کہ دونوں ملک سرحد کے قریب نئے دفاعی تعمیرات بنانے سے گریز کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں افواج کے سیکٹر کمانڈروں کو کہا گیا ہے کہ دفاعی تعمیرات ہٹانے کے بارے میں خود ہی فیصلہ کرلیں۔ دونوں وفود کے رہنماؤں نے کہا کہ غلطی سے سرحد پار کرجانے والے شہریوں کی واپسی کے طریقۂ کار کو آسان بنانے کے بارے میں بھی اتفاق ہوا۔ میجر جنرل ضیاء نے کہا کہ سرحد پار منشیات کی اسمگلنگ کرنے والوں کے بارے میں بھی انٹیلیجنس کے اشتراک پر سمجھوتہ ہوا۔ میجر جنرل ضیاء نے کہا کہ سرحد پر منشیات کی اسمگلنگ دونوں حکومتوں کے لیے ایک وبائے جان ہے۔ دونوں وفود نے اس بات کا اظہار کیا کہ یہ مذاکرات کافی کارآمد ثابت ہوئے۔ | اسی بارے میں پنجاب: 3 ضلعوں میں رینجرز تعینات03 October, 2005 | پاکستان ایل او سی:سخت حفاظتی انتظامات06 November, 2005 | پاکستان جھڑپ میں 9 شدت پسند ہلاک01 September, 2005 | انڈیا سرحد کی تقسیم سے ماورا28 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||