’چھ گھنٹے میں پل بنا دیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹیٹوال کا علاقہ کنٹرول لائن پر واقع ہے اور یہاں صرف ایک دریا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کو جدا کرتا ہے۔ اس دریا کو پاکستان میں دریائے نیلم اور بھارت میں کشن گنگا ندی کہا جاتا ہے۔ اس علاقے میں بھارتی فوجیوں نے متعدد ٹینٹ نصب کیے ہوئے ہیں اور ان ٹینٹوں میں ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف تعینات کیا گیا ہے۔ ان عارضی میڈیکل کیمپوں میں حالیہ زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے چھوٹے پیمانے پر سرجری کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ تاہم ان طبی کیمپوں میں کسی قسم کی بڑی سرجری کا انتظام نہیں ہے اور نہ ہی ان کیمپوں میں کام کرنے والے جانتے ہیں کہ کسی مریض کے تشویش ناک حالت میں ہونے کی صورت میں اسے ہیلی کاپٹر کی مدد سے کسی بڑے ہسپتال میں منتقل کیا جا سکے گا یا نہیں۔ بھارتی فوج کے انجینیئر بھی کنٹرول لائن پر موجود اس دریا پر پل بنانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں لیکن پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی فوج کو اس وقت تک یہ پل تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی جب تک اسے حکومت کی جانب سے حکم نہیں مل جاتا کیونکہ بصورتِ دیگر اس پل کی تعمیر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی تصور ہو گی۔ بھارتی فوج کی انجینیئروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے چھ گھنٹے کے اندر اندر وہ یہ پل تیار کر سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں ایل او سی: ہسپتال کی تیاریاں مکمل24 October, 2005 | انڈیا ایل او سی: امدادی مراکز کی تیاریاں 24 October, 2005 | انڈیا مراکز منگل سے کام کر سکتے ہیں 23 October, 2005 | انڈیا ایل او سی پر تین امدادی مراکز22 October, 2005 | انڈیا برسوں بعد کشمیریوں کے رابطے19 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||