اقوامِ متحدہ میں اصلاحات کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور جنوبی افریقہ کے رہنماؤں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ عالمی ادارے میں طاقت کے توازن کو ٹھیک کیا جا سکے۔ بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اقوام متحدہ کی کمزوری کا ذکر کرتے ہوۓ کہا ’کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ جمہوریت کے خسارے کا شکار ہے کیونکہ اس کا ڈھانچہ اور فیصلہ سازی کا عمل سن دو ہزار پانچ کی دنیا کی عکاسی کرنے کی بجائے انیس سو پینتالیس کی دنیا کی عکاسی کرتا ہے‘۔ وہ اس جانب اشارہ کررہے تھے کہ اقوام متحدہ کی اصلاحات کے پیکج میں سلامتی کونسل کی توسیع کا فیصلہ شامل نہیں ہے۔ جنوبی افریقہ کے صدر تھابو ایم بیکی نے بہت کھل کر اس بات پر تنقید کی کہ یہ عالمی تنظیم ان مقاصد میں ناکام رہی ہے جو اس نے پانچ سال پہلے ’میلینئم ڈولیپمنٹ‘ کے نام سے مقرر کیے تھے۔ تھابو ایم بیکی نے کہا کہ ’اس ناکامی کے معنی یہ ہیں طاقت کی منطق کہتی ہے کہ طاقتور ہمیشہ اپنا زور قائم رکھے اور بے زور کو طاقت سے محروم رکھے‘۔ اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایرئل شیرون نے اگرچہ بات یہاں سے شروع کی کہ ’میں اُس یروشلم سے آرہا ہوں جو تین ہزار سال سے یہودیوں کا دارالحکومت ہے اور مملکت اسرائیل کا غیر منقسم اور ابدی دارالحکومت‘۔ تاہم انہوں نے آگے چل کر کہا کہ امن کی خاطر رعایت دینی پڑتی ہے اور آزادی فلسطینیوں کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی سے فوجوں کے انخلاء نے فلسطینیوں کو امن کا ایک موقع دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||