BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 September, 2005, 02:46 GMT 07:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اقوامِ متحدہ میں اصلاحات کا مطالبہ
من موہن سنگھ
من موہن سنگھ نے کہا کہ ادارے میں ’جمہوریت کا خسارہ ہے‘
بھارت اور جنوبی افریقہ کے رہنماؤں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ عالمی ادارے میں طاقت کے توازن کو ٹھیک کیا جا سکے۔

بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اقوام متحدہ کی کمزوری کا ذکر کرتے ہوۓ کہا ’کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ جمہوریت کے خسارے کا شکار ہے کیونکہ اس کا ڈھانچہ اور فیصلہ سازی کا عمل سن دو ہزار پانچ کی دنیا کی عکاسی کرنے کی بجائے انیس سو پینتالیس کی دنیا کی عکاسی کرتا ہے‘۔

وہ اس جانب اشارہ کررہے تھے کہ اقوام متحدہ کی اصلاحات کے پیکج میں سلامتی کونسل کی توسیع کا فیصلہ شامل نہیں ہے۔

جنوبی افریقہ کے صدر تھابو ایم بیکی نے بہت کھل کر اس بات پر تنقید کی کہ یہ عالمی تنظیم ان مقاصد میں ناکام رہی ہے جو اس نے پانچ سال پہلے ’میلینئم ڈولیپمنٹ‘ کے نام سے مقرر کیے تھے۔

تھابو ایم بیکی نے کہا کہ ’اس ناکامی کے معنی یہ ہیں طاقت کی منطق کہتی ہے کہ طاقتور ہمیشہ اپنا زور قائم رکھے اور بے زور کو طاقت سے محروم رکھے‘۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایرئل شیرون نے اگرچہ بات یہاں سے شروع کی کہ ’میں اُس یروشلم سے آرہا ہوں جو تین ہزار سال سے یہودیوں کا دارالحکومت ہے اور مملکت اسرائیل کا غیر منقسم اور ابدی دارالحکومت‘۔ تاہم انہوں نے آگے چل کر کہا کہ امن کی خاطر رعایت دینی پڑتی ہے اور آزادی فلسطینیوں کا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی سے فوجوں کے انخلاء نے فلسطینیوں کو امن کا ایک موقع دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد