جھوٹے دعویدار غدار ہیں: عدالت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ جولوگ برطانوی راج کےخلاف آزادی کی مہم میں حصہ لینے کاجھوٹا دعویٰ کرتے ہیں انکے ساتھ سختی سے نمٹا جاۓ ۔ عدالت میں مفاد عامہ کی ایک عذر داری میں کہا گیا تھا کہ کئی طرح کی سہولیات سے مستفید ہونے کے لیے بہت سے لوگ مجاہد آزادی کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں۔ ملک میں مجاہدین آزادی کو کئی طرح کی مفت سہولیات مہیّاہیں اور انہیں پنشن بھی دی جاتی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ریاست مہاراشٹرمیں ایک بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے آپ کو مجاہد آزادی کے نام سے درج کروالیا ہے۔ اس کے خلاف ایک عرضی پرسماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ ’جو لوگ ایسا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں وہ غدّار ہیں اور ملک کی توہین کرتے ہیں۔‘ جسٹس ارجت پسائت نے کہا کہ مجاہد آزادی کے نام پر ایک ایسے شخص کی شبیہ ذہن میں آتی ہے جس نے ذہنی وجسمانی طور پر ہمارے ملک میں غیر ملکیوں کی سخت حکمرانی دیکھی ہو۔ لیکن جب یہ سننے کو ملتا ہے کہ ذرا سی مالی فائدے کے لیے کوئی جھوٹا مجاہد آزادی کا دعویٰ کرتا ہے تو اسکے متعلق تمام تصورات چکنا چور ہوجاتے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے ملک میں اخلاقی گروٹ کی حد ہے کہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو تحریک آزادی کے وقت پیدا بھی نہیں ہوۓ تھے اور بہت سے تھے تو ان سے کوئی واسطہ نہیں تھا لیکن وہ مجاہد آزادی کا سرٹیفیکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسے افراد کے خلاف سخت کاروائی کی ضرورت ہے۔ عدالت نے ان واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوۓ ایک تحقیقاتی کمیشن مقرر کیا ہے۔ کمیشن ایسے تمام واقات کی تفتیش کے بعد اپنی رپورٹ پیش کریگا۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومتوں سے کہا ہے کہ اس کمیشن کی بنیاد پر کاروائی کی جاۓ۔ اس سے قبل ممبئی ہائی کورٹ نے بھی ایک تحقیقاتی کمیشن مقرر کیا تھا۔ اس کمیشن نے تقریبا ساڑھے تین سو ایسے لوگوں پر شکوک و شبہات ظاہر کیے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||