’ویٹو کے بغیر رکنیت قبول ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی حکومت نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان کے لیے مستقل رکنیت حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہندوستان کو ابتدائی پندرہ برس کے لیے بغیر ویٹو پاور کے بھی سلامتی کونسل میں رکنیت منظور ہے۔ پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں خارجی امور کے وزیر مملکت راؤ اندر جیت نے کہا تھا کہ ’ہماری تمام کوششوں کے باوجود ممکن ہے کہ اسکا کچھ بھی نتیجہ نہ نکلے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔‘ سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا، اندر جیت کے اس بیان سے مطمئن نہیں تھے۔ انہوں نے نٹور سنگھ سے سوال کیا کہ کیا نائب وزیرخارجہ کے بیان کا مطلب یہ سمجھا جائے کہ حکومت کی کوششوں کے بدلے صرف مایوسی اور افسردگی اس کے ہاتھ لگی ہے۔ نٹور سنگھ نے کہا کہ بیرونی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے اچھے تعلقات ہیں اور حمایت حاصل کرنے کے لیے حکومت نے بہت سے سفارتی مندوبین بھی بھیجے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جی فور ممالک جرمنی، جاپان، برازیل اور انڈیا کی اس بات کے لیے ستائش ہونی چاہیے کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں اصلاحات کا معاملہ سامنے رکھاہے۔ نٹور سنگھ کا کہنا تھا کہ جی فور ممالک نے سلامتی کونسل کی توسیع کا معاملہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں رکھا ہے۔ انہوں یہ بھی کہا کہ ہندوستان نے اس بات پر اتفاق کرلیا تھا کہ شروع میں پندر برس تک بغیر ویٹو پاور کے بھی اسے رکنیت تسلیم ہے۔ تاکہ اس کی ابتداء تو ہوسکے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||