پلیٹ فارم ٹکٹ اتنا مہنگا کیوں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ پلیٹ فارم پر بغیر ٹکٹ گھومنا جرم ہے۔ پکڑے جانے پر سزا ہو سکتی ہے۔‘ سات سال پہلے آسام کی روپا نے پٹنہ جنکشن پر یہ اعلان سنا تو وہ اس کی زبان سے واقف نہیں تھی اس لیےاس کا مطلب بھی نہیں سمجھ سکی۔لیکن روپا اب سولہ سال کی ہو چکی ہیں اور پلیٹ فارم ٹکٹ نہ خریدنے کے جرم میں تقریباً ڈھائ ہزار دن جیل (ریمانڈ ہوم) میں گزارے چکی ہیں۔ اُس وقت اس جرم کے لۓ نو دنوں کی سزا مقرر تھی لیکن سرکاری بابوؤں کی کارگزاری کے سبب روپا کو نودن کے بعد کتنا عرصہ ریمانڈ ہوم میں ہی گزارنا پڑا کیونکہ بابو حضرات اس بچی کو اسکے گھر نہیں پہنچا سکےتھے۔ حال ہی میں وہ جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس التمش کبیر کے حکم پر رہا ہوکر آسام اپنے گھر پہنچ سکی ہے۔ عدالت نے بہاراور جھار کھنڈ کی حکومتوں کواس لڑکی کو ایک لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کا حکم بھی دیا ہے۔ رانچی کے اخباری ذرائع کے مطابق اب معلوم ہوا ہے کہ روپا کا اصل نام انیتا موجمدار ہے۔ آخر کار اسے گولہ گھاٹ تھانےمیں اُس کے بھائی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ روپا یا انیتا چھبیس جولائی انیس سو اٹھانوے کو پٹنہ جنکشن پر بغیر پلیٹ فارم ٹکٹ کے پکڑی گئی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غالباً وہ اپنے گھر والوں سے بچھڑ گئی تھی ۔ پولس نے روپا کو ریلوے میجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا تو اسے تین سو روپے جرمانہ دینے یا نو دنوں کی سزا سنائی گئی۔ رقم نہ ہونے کی وجہ سے روپا کو دیوگھر (جواب جھارکھنڈ میں ہے ) کے ریمانڈ ہوم میں بھیج دیا گیا۔ ستمبر انیس سو اٹھانوے میں ریلوے کے میجسٹریٹ نے حکم دیا کہ جلد از جلد بچی کے والدین کا پتا چلایا جائے اور بچی ان کے سپرد کی جائے لیکن کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔ اس سال تیس اپریل کو جھارکھنڈ کے چیف جسٹس التمش کبیر دیوگھر کے ریمانڈ ہوم کا معائنہ کرنے پہنچے تو ان کی ملاقات روپا سے ہوئی۔ روپا کی کہانی سن کر انہوں نے بہاراور جھارکھنڈ کی حکومتوں کو نوٹس جاری کیا جس کے بعد روپا کو اس کے بھائی کے پاس پہنچا دیا گیا۔ جھارکھنڈ کے ایڈوو کیٹ جنرل انل کمار سنہا کے مطابق لڑکی لاوارث حالت میں پٹنہ جنکشن پر ملی تھی۔ سرکار کی جانب سے اسے اسکے گھر والوں تک پہنچانے کی کوشش کی گئی لیکن اس کے بتائے ہوئے پتے غلط نکلے تھے۔ مسٹر سنہا نے بتایا کہ چیف جسٹس کو جب اس معاملے کی اطلاع ملی تو انہوں نے روپا کو ہر حال میں اس کے گھر والوں تک پہنچانے کا حکم دیا۔ اس کے بعد پولس والے اسے گوہاٹی لے گۓ جہاں اس نے اپنے گھر کی شناخت کی۔ اس معاملے میں دونوں ریاستوں کی حکومتوں کی جانب سے دلچسپ دلائل پیش کیے گئے۔ بہار کی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ بچی کو اس لیے ریمانڈ ہوم میں رکھا گیا کہ اسکے والدین نے اسے رکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ دوسری طرف جھارکھنڈ کی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت انکی ریاست کا قیام عمل میں نہیں آیا تھا۔ عدالت نے ان دلائل کو نامنظور کر دیا اور دونوں حکومتوں کو ایک ماہ کے اندر آدھی آدھی رقم بذریعہ بینک ڈرافٹ روپا کو بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||