’جوہو پر ہیرے ملنے کی تردید‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے شہر ممبئی میں پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان افواہوں پر یقین نہ کریں کہ وہاں سمندر کے کنارے ہیرے مل رہے ہیں۔ سنیچر کو اس طرح کی افواہیں پھیلنے کے بعد سے سینکڑوں افراد جوہو بیچ پر ریت اور پانی میں ہیرے ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔ تاہم پولیس کا کہنا کہ لوگوں کو جو چیز مل رہی ہے وہ ہیرے نہیں صرف شیشے کے ٹکڑے اور پتھر ہیں۔ اسی علاقے میں چند روز قبل ایک شخص سمندر میں ڈوب گیا تھا عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وہ ہیرے تلاش کر رہا تھا۔لیکن پولیس اس بات کی تردید کرتی ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر امیتابھ گپتا نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ کچھ لوگوں کو وہاں سے ہیرے ملے ہیں۔ ممبئی میں بی بی سی کے نامہ نگار زبیر احمد کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں نے سیاحوں کو پتھر فروخت کئے ہیں اور مقامی جوہریوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ پتھر ہیرے نہیں ہیں۔ جوہو بیچ ممبئی کا سب سے مشہور بیچ ہے جہاں پورے بھارت سے روزانہ سینکڑوں سیاح آتے ہیں۔ ایک 15 سالہ لڑکے دھروو نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا’ ہم نے سنا تھا کہ یہاں سے لوگوں کو ہیرے مل رہے ہیں اس لئے میں اپنے دوست کے ساتھ یہاں آیا اور ہمیں ہیرے ملے بھی جو ہم نے فروخت کر دیے۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ لوگوں کا ہیروں کی تلاش میں سمندر میں دور تک نکل جانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے خاص طور پر اونچی لہروں کے درمیان۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||